اصحاب احمد (جلد 4)

by Other Authors

Page 184 of 253

اصحاب احمد (جلد 4) — Page 184

۱۸۴ آپ کی نشست تھی وہاں کا یہ ذکر ہے۔فرمایا کہ جیسا ایک دنیا دار کو اپنے صندوق میں رکھے ہوئے روپوں پر بھروسہ ہوتا ہے کہ جب چاہوں گا نکال لوں گا۔اس سے زیادہ ان لوگوں کو جو اللہ تعالیٰ پر پورا تو کل کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ پر یقین ہوتا ہے اور ایسا ہی ہوتا کہ جب ضرورت ہوتی ہے فوراً خدا تعالیٰ بھیج دیتا ہے۔۸۱۔آپ کی عادت تھی کہ مہمانوں کے لئے دوستوں سے پوچھ پوچھ کر عمدہ سے عمدہ کھانے پکواتے کہ کوئی عمدہ کھانا بتاؤ جو دوستوں کے لئے پکوایا جائے۔حکیم حسام الدین صاحب سیالکوٹی میر حامد شاہ صاحب مرحوم کے والد تھے۔ضعیف العمر آدمی تھے ان کو بلایا اور فرمایا کہ میر صاحب کوئی عمدہ کھانا بتلائیے جو مہمانوں کے لئے پکوایا جائے۔انہوں نے کہا میں شب دیگ بہت عمدہ پکوانی جانتا ہوں۔آپ نے فرمایا بہت اچھا اور ایک مٹھی روپیوں کی نکال کر ان کے آگے رکھ دی انہوں نے بقدر ضرورت روپے اٹھا لئے اور آکر انہوں نے بہت سے شلجم منگوائے۔اور چالیس پچاس کے قریب کھونٹیاں لکڑی کی بنوائیں۔شلجم چھلوا کر کھونٹیوں سے کو چے لگوانے شروع کئے اور ان میں مصالحہ اور زعفران وغیرہ ایسی چیزیں بھروائیں۔پھر وہ دیگ پکوائی۔جو واقعہ میں بہت لذیذ تھی۔اور حضرت صاحب نے بھی بہت تعریف فرمائی۔اور مہمانوں کو کھلائی گئی۔۸۲۔ایک دفعہ ایک انسپکٹر جنرل پولیس کا ایک باورچی قادیان آیا۔بوڑھا آدمی تھا اور بیعت میں داخل تھا۔اس سے آپ نے فرمایا کہ آپ ایک بڑے آدمی کا کھانا پکاتے رہے ہیں۔کوئی بہت عمدہ چیز دوستوں کے لئے پکائیں۔انہوں نے کہا پہلے حضور نمونہ ملاحظہ فرمالیں۔پھر اس نے بکرے کی ران اور گھی منگا کر روسٹ کیا ( یعنی بھونا ) مگر وہ گوشت بالکل نہ گلا۔حضرت صاحب کی خدمت میں جا کر پیش کیا۔میں اور مولوی