اصحاب احمد (جلد 4)

by Other Authors

Page 140 of 253

اصحاب احمد (جلد 4) — Page 140

۱۴۰ ان کے ایک دن بعد منشی عبدالرحمن صاحب نے بیعت کی۔منشی عبدالرحمن صاحب، منشی اروڑا صاحب اور محمد خاں صاحب تو بیعت کر کے واپس آگئے۔کیونکہ یہ تینوں ملازم تھے۔میں ۱۵۔۲۰ روز لدھیا نہ ٹھہرا رہا۔اور بہت سے لوگ بیعت کرتے رہے۔حضور تنہائی میں بیعت لیتے تھے۔اور کواڑ بھی قدرے بند ہوتے تھے۔بیعت کرتے وقت جسم پر ایک لرزہ اور رقت طاری ہو جاتی تھی۔اور دعا بعد بیعت بہت لمبی فرماتے تھے۔اس لئے ایک دن میں میں چھپیں کے قریب بیعت ہوتے تھے۔۱۴۔بیعت کے بعد جب میں لدھیانہ ٹھہرا ہوا تھا تو ایک صوفی طبع شخص نے چند سوالات کے بعد حضرت صاحب سے دریافت کیا کہ آیا آر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت بھی کرا سکتے ہیں۔آپ نے جواب دیا کہ اس کے لئے مناسبت شرط ہے اور میری طرف منہ کر کے فرمایا کہ یا جس پر خدا کا فضل ہو جائے۔اسی رات میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا۔۱۵۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک دفعہ میرے دو تین خواب ازالہ اوہام کی جلد کے ساتھ جو کورے کاغذ تھے ان پر اپنی قلم سے درج فرما لئے۔اسی طرح الہی بخش اکو نٹنٹ نے جب حضرت صاحب کے خلاف کچھ خواب شائع کئے۔تو حضور نے مجھے لکھا کہ اپنے خواب لکھ کر بھیجو۔میں نے بھیج دیئے۔حضور نے وہ خواب اشتہار میں چھپوا دیئے۔خواب سے پیشتر میں نے یہ شعر بھی لکھا تھا۔الا اے بلبل نالاں چہ چندین ماجرا داری بیا داغیکه من در سینه دارم تو کجا داری : بیعت کے رجسرہ میں آپ کے کوائف یوں مرقوم ہیں : ” ظفر احمد ولد محمد ابراہیم (وطن) بڈھانہ ضلع مظفر نگر ( موجودہ سکونت ) کپورتھلہ (پیشہ اپیل نویسی ) محکمہ مجسٹر یٹی کپورتھلہ۔“ ( مولف اصحاب احمد )