اصحاب احمد (جلد 4) — Page 139
۱۳۹ حسن۔پس کوئی حدیث موضوع نہ رہے گی۔انہوں نے جواب دیا کہ ہم اہل ہوی کا جواب نہیں دیا کرتے لیکن چونکہ تمہارا تعلق مرزا صاحب سے ہے اس لئے جواب لکھتا ہوں۔اور مرزا صاحب وہ ہیں کہ معقولی باتیں پیش کرتے ہیں۔اور پھر وہی قرآن سے دکھلا دیتے ہیں۔اور ان کا دعویٰ مجددیت قریب به اذعان ہے۔( یہ مولوی رشید احمد صاحب کے الفاظ ہیں) قرآن پر جو کوئی اعتراض کرتا ہے۔مرزا صاحب معقول جواب اس کا دیتے ہیں۔اور قرآن سے نکال کر وہی دکھا دیتے ہیں۔” مراد اس ذکر سے یہ ہے کہ رشید احمد صاحب گنگوہی حضرت صاحب کو مجدد ہونے والے اپنے اندازے میں سمجھتے تھے۔وہ خطوط رشید احمد صاحب کے مجھ سے مولوی اشرف علی نے جو رشید احمد صاحب کا مرید تھا اور سلطان پور ریاست کپورتھلہ میں رہتا تھا لے کر دبا لئے اور پھر با وجود مطالبہ دیئے نہیں۔۱۸۸۶ء میں حضرت صاحب کے خطوط میرے پاس آتے تھے۔۱۳۔بیعت اولی۔سبز کاغذ پر جب اشتہار حضور نے جاری کیا تو میرے پاس بھی ۶۔۷ اشتہا ر حضور نے بھیجے۔منشی اروڑا صاحب فوراً لدھیانہ کو روانہ ہو گئے۔دوسرے دن محمد خاں صاحب اور میں گئے اور بیعت کر لی۔منشی عبدالرحمن صاحب تیسرے دن پہنچے۔کیونکہ انہوں نے استخارہ کیا اور آواز آئی۔عبدالرحمن آجا ہم سے پہلے آٹھ نوکس بیعت کر چکے تھے۔بیعت حضور ا کیلے اکیلے کو بٹھا کر لیتے تھے۔اشتہار پہنچنے سے دوسرے دن چل کر تیسرے دن صبح ہم نے بیعت کی پہلے منشی اروڑ ا صاحب نے پھر میں نے۔میں جب بیعت کر نے لگا تو حضور نے فرمایا کہ آپ کے رفیق کہاں ہیں؟ میں نے عرض کی منشی اروڑا صاحب نے تو بیعت کر لی ہے۔اور محمد خان صاحب نہار ہے ہیں۔کہ نہا کر بیعت کریں۔چنانچہ محمد خاں صاحب نے بیعت کر لی۔