اصحاب احمد (جلد 4)

by Other Authors

Page 141 of 253

اصحاب احمد (جلد 4) — Page 141

۱۴۱ عسل مصطفی میں وہ اشتہار اور خواب چھپے ہوئے موجود ہیں۔۱۶۔ایک دفعہ حضور لدھیانہ میں تھے کہ میں حاضر خدمت ہوا۔حضور نے فرمایا کہ آپ کی جماعت ساٹھ روپے ایک اشتہار کے صرف کے لئے جس کی اشاعت کی ضرورت تھی برداشت کرلے گی۔میں نے اثبات میں جواب دیا اور کپورتھلہ واپس آکر اپنی اہلیہ کی سونے کی تلڑی فروخت کر دی۔اور احباب جماعت میں سے کسی سے ذکر نہ کیا۔اور ساٹھ روپے لے کر میں اُڑ گیا۔( والد صاحب کے یہی الفاظ ہیں۔محمد احمد ) اور لدھیانہ جا کر پیش خدمت کئے۔چند روز بعد منشی اروڑا صاحب بھی لدھیانہ آگئے۔میں وہیں تھا۔ان سے حضور نے ذکر فرمایا کہ آپ کی جماعت نے بڑے اچھے موقعہ پر امداد کی منشی اروڑا صاحب نے عرض کی جماعت کو یا مجھے تو پتہ بھی نہیں۔اس وقت منشی صاحب مرحوم کو معلوم ہوا کہ میں اپنی طرف سے آپ ہی روپیہ دے آیا ہوں اور وہ مجھ پر بہت ناراض ہوئے۔اور حضور سے عرض کیا اس نے ہمارے ساتھ بہت دشمنی کی جو ہم کو نہ بتایا۔حضور نے منشی اروڑا صاحب کو فرمایا۔منشی صاحب خدمت کر نیکے بہت سے موقعے آئیں گے۔آپ گھبرائیں نہیں۔منشی صاحب اس کے بعد عرصہ تک مجھ سے ناراض رہے۔۱۷۔ایک دفعہ منشی اروڑا صاحب مرحوم اور میں نے لدھیانہ میں حضور کی خدمت میں عرض کی کہ کبھی حضور کپورتھلہ میں تشریف لائیں۔ان دنوں کپورتھلہ میں ریل نہ آئی تھی۔حضور نے وعدہ فرمایا کہ ہم ضرور کبھی آئیں گے۔اس کے بعد جلد ہی حضور بغیر اطلاع دیئے ایک دن کپورتھلہ تشریف لے آئے اور یکہ خانہ سے اتر کر مسجد فتح والی نزدیکہ خانہ کپورتھلہ میں تشریف لے گئے۔حافظ حامد علی صاحب ساتھ تھے۔مسجد سے حضور نے ملا کو بھیجا کہ منشی اروڑا صاحب یا منشی ظفر احمد صاحب کو ہمارے آنے