اصحاب احمد (جلد 3) — Page 74
۷۴ غالباً ۱۹۰۶ ء میں حضرت چوہدری رستم علی صاحب نے مجھے سیکرٹری بنا دیا اور تبلیغ کرنے کی ہدایت فرمائی۔اس زمانہ میں بابو عبد الرحمن صاحب ہیڈ ٹریژری کلرک انبالہ شہر زندہ تھے۔اور ان کے ساتھ ٹھیکیدار محمد یوسف صاحب بھی تھے۔ماسٹر عبد العزیز صاحب نوشہروی کے مکان پر جو غالباً تو پخانہ بازار میں رہتے تھے۔ہمارے اجلاس ہوا کرتے تھے ہو۔حضرت چوہدری رستم علی صاحب کی ایک بات مجھے یاد پڑتی ہے۔ان دنوں وہ کورٹ انسپکٹر تھے۔یا کورٹ سب انسپکٹر۔فرمانے لگے کہ میرے پاس ایک تھانیدار صاحب آئے اور انہوں نے مجھے اپنے حلقہ کے متعلق بعض باتیں بتلائیں جن میں سے کچھ کسی چوکیدار کے خلاف تھیں۔تھانیدار کے جانے کے بعد وہی چوکیدار آگیا۔اور اس نے تھانیدار کے خلاف کچھ باتیں کیں۔مجھے اس چوکیدار پر غصہ آیا۔اور میں نے اُسے ایک چپت لگائی۔وہ روتا ہوا چلا گیا۔تو مجھے خیال آیا کہ ممکن ہے کہ یہی سچا ہو اور تھانیدار جھوٹا۔میں نے چوکیدار کو واپس بلایا دوروپے اسے دیئے۔دودھ پلایا اور اس سے افسوس کا اظہار کیا۔اس زمانہ میں تو سپاہی بھی بڑا بارعب ہوا کرتا تھا۔پھر تھانیدار تو اپنے آپ کو فرعون سے کم نہ جانتا تھا۔اس کے اوپر کے مرتبہ والے کورٹ انسپکٹر خدا ہی جانے کس شان کے ہوا کرتے تھے۔مگر با وجود ایسی شان کے حضرت چوہدری صاحب ایسے منکسر المزاج تھے کہ ایک چوکیدار کا دل دُکھانا بھی انہیں گناہ کبیرہ نظر آیا۔اور جب تک چوکیدار خوش نہ بابوعبد الرحمن صاحب بعدہ امیر جماعت انبالہ اور ماسٹر عبدالعزیز صاحب نوشہرہ سگے زئیاں وفات پاچکے ہیں اور ۲۲۳ ۲۲۴ پر منارۃ اس پر آپ کا اور آپ کی اہلیہ محترمہ کے اسماء کندہ ہیں غالباً آپ ہی اپنے قبول احمدیت کے حالات میں بیان کرتے ہوئے کہ کن احمدی احباب سے ملاقات ہوئی لکھتے ہیں۔فروری ۱۹۰۳ء میں دفتر بدل کر انبالہ چھاؤنی آگیا۔ان دنوں یہاں طاعون کا سخت زور تھا با بوفضل احمد صاحب سکنہ بٹالہ و بھائی شیخ عطاء اللہ صاحب سکنہ دھرم کوٹ بگہ سے ملاقات ہو گئی۔اور انکی صحبت میں اخبار بدر کے پرانے فائلوں کے مطالعہ کرنے کا خوب موقعہ نصیب ہو ا۔۱۹۰۶ء میں بابو فضل احمد صاحب بحصول رخصت چند یوم خادم ہی کے غریب خانہ میں مہمان ہوئے۔چونکہ آپ پہلے سے احمدی تھے آپ کی صحبت سے مجھے بہت ہی فائدہ حاصل ہوا۔‘ے