اصحاب احمد (جلد 3) — Page 73
۷۳ ورصلی اللہ علیہ وسلم کسی سے باتیں کر رہے ہیں مگر مجھے زیارت نصیب نہ ہوئی ہے۔بچپن میں ایک دفعہ بٹالہ میں پانی کا سیلاب آیا اور میں بھی بچوں کے ساتھ لیک والے تالاب کے پاس جس کے مغرب کی جانب ذیل گھر ہوا کرتا تھا پہنچا تو کسی لڑکے نے مجھے کہا وہ دیکھو قا دیان والے مرزا صاحب بیٹھے ہوئے ہیں۔میں نے بھی ذیل گھر کے نچلے کمرہ کی طرف نگاہ کی تو مجھے حضور کی زیارت ہوئی۔حضور بیٹھے ہوئے تھے۔دراصل میری احمدیت کی ابتداء لا ہور میں ۱۹۰۴ء میں ہوئی تھی۔جہاں برادرم ڈاکٹر محمد طفیل صاحب نے مجھے آبزرور پریس میں تبلیغ کی تھی۔انہوں نے مجھے ریویو آف ریلیچز کا کوئی پرچہ پڑھنے کے لئے دیا تھا۔جس کا اثر میرے دل و دماغ پر ایسا پڑا کہ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں ایک عریضہ لکھا کہ ریویو میرے نام پر جاری کر دیں حضور علیہ السلام نے گذشتہ سارے پرچے ۱۹۰۴ء تک کے مجھے بھجوا دیئے جن کے مطالعہ سے میرے دل نے فیصلہ کر لیا کہ مجھے بیعت کر لینی چاہئیے۔اور شاید میں نے بیعت کا خط بھی لکھ دیا۔کیونکہ میں نے ۱۹۰۶ء میں ہی دوسرے دوستوں کو تبلیغ کرنی شروع کر دی تھی۔جن سے میں ایک تو برادرم ڈاکٹر عطاء اللہ خاں صاحب تھے۔چونکہ آج سے ساٹھ سال پہلے کی بات ہے اس لئے پوری طرح تو یاد نہیں مگر اتنا یاد ہے کہ حضرت ڈاکٹر محمد علی صاحب وٹرنری اسٹنٹ (جو ابوالمنیر نور الحق صاحب دارالمصنفین کے دادا کے چھوٹے بھائی تھے ) ہمیں انبالہ چھاؤنی میں قرآن شریف پڑھایا کرتے تھے اور یہ بھی شبہ پڑتا ہے کہ ان کی تبلیغ سے ماسٹر عبدالعزیز صاحب نوشہروی اور ڈاکٹر غلام مصطفیٰ صاحب نے بیعت کی تھی۔اور شاید میں نے بیعت دوبارہ تحریری طور پر کی تھی۔تعبیر یہ معلوم ہوتی ہے کہ مثیل حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم موجود ہیں لیکن شیخ صاحب کو ابھی زیارت کا موقعہ میسر نہیں آیا۔نیز یہ کہ تھانیدار محمد علی صاحب کے گھرانہ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا تعلق ہے۔جو گویا ابھی ظاہر نہیں سو تھانیدار صاحب کے فرزند حضرت ڈاکٹر صاحب کے قبول احمدیت کی توفیق ملنے پر یہ تعلق ظاہر ہو گیا۔ڈاکٹر صاحب قادیان میں مدرسہ احمدیہ کے سیکنڈ ماسٹر رہے۔جلسہ سالانہ پر ناظم نظامت اندرون ہوتے تھے۔قائم مقام صدر عمومی یا نائب نیز صدر محله دارالفضل بھی بعد ہجرت پاکستان میں وفات ہوئی۔