اصحاب احمد (جلد 3)

by Other Authors

Page 75 of 308

اصحاب احمد (جلد 3) — Page 75

۷۵ ہوا آپ اس کی خاطر مدارت کرتے رہے۔یہی بات ایک شعر میں بیان ہوئی ہے۔۔گر به دولت پرسی مست نه گردی مروی ور به پستی برسی مست نه گروی مروی خاکسار کو یہ فخر بھی حاصل ہے کہ جب کبھی حضرت چوہدری صاحب کی خدمت میں حاضر ہوتا تو انہیں حضرت مولوی عبد اللہ صاحب غزنوی کی فارسی سوانح عمری سنایا کرتا تھا۔پھر آپ پنشن لے کر قادیان میں آگئے وہاں بھی میں ان کی خدمت میں حاضر ہوتا رہا۔اپریل ۱۹۰۷ء میں میری شادی بٹالہ میں محتر مہ سردار بیگم صاحبہ ہمشیرہ شیخ اکبر علی صاحب کے ساتھ ہوئی چونکہ میں نے دستی بیعت ۱۹۰۷ء میں کی تھی اور طبیعت پر ان دنوں بڑا اثر تھا۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ میری مرحومہ بیوی نے بھی بیعت کر لی۔اور اس کو دیکھ کر ان کی والدہ محترمہ اور بھائیوں اکبر علی صاحب اور اصغر علی صاحب مرحوم بھی احمدیت میں داخل ہو گئے۔یہ اللہ تعالیٰ کا مجھ پر بڑا حسان ہوا کیونکہ آگے ان کی اولا د بھی احمدی ہے ہے۔۱۹۰۷ء کی ابتداء میں حضرت مولوی نورالدین صاحب (خلیفہ اول) کی خدمت میں بعض عریضے میں نے لکھے جن کا اثر آپ کے مبارک اور پاک دل پر اتنا پڑا کہ آپ کی محبت میرے دل میں بیٹھ گئی۔غالباً اگست ۱۹۰۷ء میں مجھے قادیان جانے کا موقعہ خدا تعالیٰ نے محض اپنے رحم سے بخشا۔اور میں نے حضرت خلیفہ اول کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کرنی چاہتا ہوں۔آپ نے فرما یا مسجد مبارک میں چلے جاؤ اور بیعت کرلو۔میں نے عرض کیا کہ میں آپ کی معرفت بیعت کرنی چاہتا ہوں۔تو آپ نے فرمایا مسجد مبارک میں جا کر میرا انتظار کرو۔میں مسجد مبارک میں چلا گیا۔اس کی جنوبی کھڑکی میں حضرت قاضی محمد ظہور الدین صاحب اکمل بیٹھے ہوئے تھے۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام پہلے سے تشریف لائے ہوئے تھے یا اسی وقت آئے : ملک محمد احمد صاحب پسر با بو فضل احمد صاحب بتاتے ہیں کہ اکبر علی صاحب واصغر علی صاحب دونوں وفات پا چکے ہیں۔مکرم اکبر علی صاحب لاہور میں ۱۶ جون ۱۹۶۹ء کو فوت ہوئے اور بہشتی مقبرہ میں دفن ہوئے۔الفضل میں ان کی وفات کے ذکر میں مرقوم ہوا کہ اپنے بہنوئی شیخ فضل احمد صاحب بٹالوی کے ذریعہ ۱۹۰۸ء میں حضرت خلیفہ اول کے ہاتھ پر بیعت کر کے احمدی ہوئے تھے۔الفضل ۲۸ جنوری ۱۹۶۹ص۶