اصحاب احمد (جلد 3) — Page 44
۴۴ نے اس موقع پر وطن پہنچنے سے روک دیا ان کی نیت تھی کہ جنازہ قادیان لے جانے سے روک دیں۔وہ چلتی گاڑی میں سوار ہونا چاہتے تھے لیکن سوار نہ ہو سکے۔سلسلہ کے لڑیچر میں ذکر سلسلہ کے لڑیچر میں آپ کا ذکر بہت سے مقامات پر آیا ہے۔درخشنده سیرت تنگی سے گذر اوقات کے باوجود آپ کا قلب صافی صبر و شکر کے جذبات سے معمور رہتا تھا۔چنانچہ آپ کی اہلیہ ثانیہ سُناتی ہیں کہ ایک رات میں بیدار ہوئی تو آپ کو سجدہ کی حالت میں بارگاہ الہی میں یہ عرض کرتے پایا کہ اے اللہ تعالیٰ ! نہ معلوم دمِ واپسیں کے وقت مجھے ہوش رہے یا نہ رہے۔اس وقت جب کہ میرے ہوش وحواس بجا ہیں۔میں اقرار کرتا ہوں کہ میں نے عمر بھر تیری دنیا میں بہت مزے کئے اور سکھ پایا۔آپ ۱۹۴۹ء میں حالات زندگی قلمبند کرتے ہوئے تحریر کرتے ہیں : ” جب سے میں نے ہوش سنبھالی ہے۔تا ایں دم اللہ کریم کے بے شمار افضال۔اکثر محض ( رحمانیت اور ربوبیت کے رنگ میں پائے ہیں کہ میں (اور) میرا خاندان کیا تھا اور کس قدر افضال الہی متواتر ہمارے شامل حال ہوئے۔موت قریب دیکھتے ہوئے میں اس طرح اعتراف کرتا ہوں کہ جس طرح ایک لڑکی والدین کے گھر سے پہلی بارسسرال : مثلاً (۶۱) ادائیگی چنده اعانت ریویو آف ریلیجنز (اردو) با بو فقیر علی صاحب جھٹ پٹ۔از مقام سٹھارجہ (پرچہ اپریل و اکتوبر ۱۹۰۶ء سرورق آخر ) (۳ تا ۷) قیمت رساله تحمید الاذهان از خیر پور میر سندھ وغیرہ (پرچہ اکتوبر ۱۹۰۸ء سرورق اول اندرون مئی ۱۹۱۰ء ص ۲۰۰ کالم ۲ جنوری ۱۹۱۲ء سرورق صفحه ب جولائی ۱۹۱۲ء صفحہ و کالم اور مئی ۱۹۱۳ء صفحہ و کالم "۔(۸ تا ۱۰) شرکت شوری بطور نمائندہ امرتسر رپورٹ اجلاس اوّل ۱۹۳۶ء ص ۱۵۵۔واجلاس ثانی ص ۸۴)