اصحاب احمد (جلد 3) — Page 43
۴۳ سیدہ بیگم صاحبہ (اہلیہ اخویم شیخ عبد القادر صاحب لائیل پوری محقق عیسائیت خلف حضرت شیخ عبدالرب صاحب لائیلپوری ) پیدا ہوئیں۔(بیان ایم بشیر احمد صاحب) ( ۴ تا ۶ ) : تین بچے محمود احمد۔شریف احمد اور عبداللہ کم سنی میں تین سے دس سال تک کی عمر میں عالم جاودانی کو سدھار گئے۔ایک دفعہ سکھر میں بابو صاحب چار خوردسالہ بچوں کو لے کر دریائے سندھ پر چلے گئے اللہ تعالیٰ نے سب کی حفاظت کا سامان غیب سے فرمایا۔ورنہ کسی کو علم بھی نہ ہوتا کہ وہ کیا ہوئے۔آپ کے اہلِ بیت کو بھی اس بات کا علم نہ تھا۔ہوا یوں کہ دریا میں آپ نہانے لگے اور بچی کو نہلا کر جو کھڑا کیا تو وہ خود ہی گہرے پانی کی طرف چلی گئی۔اُسے ڈوبتا دیکھ کر آپ اس کی طرف بڑھے تو خود ڈوبنے لگے باقی تینوں بچے بھی بڑھے۔اچانک ایک ملاح مٹی کے بڑے گھڑے سمیت (جس کے سہارے یہ لوگ تیرتے ہیں ) آ گیا۔اس نے آپ کو اور بچی کو جس کی صرف گت (چوٹی ) نظر آرہی تھی بچا لیا۔اس طرح اللہ تعالیٰ کے فضل سے سارے افراد بچ گئے۔آپ کی اہلیہ اولیٰ کو زیارت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا موقعہ نہیں ملا تھا۔لیکن سلسلہ سے بہت اخلاص رکھتی تھیں۔نمازوں کا پورا التزام رکھتی تھیں۔انفاق فی سبیل اللہ۔مہمانوں کی تواضع اور سادہ زندگی بسر کرنا وغیرہ جملہ امورِ خیر میں آپ کے خاوند محترم کو آپ کا پورا تعاون حاصل تھا۔سل یا دق سے بیمار ہو کر امرتسر سے موضع منگل کوٹلی (اپنے وطن ) چلی گئیں۔جہاں ۱۰ اپریل ۱۹۱۵ء کو اس دار فانی سے کوچ کر گئیں۔اس زمانہ میں کس۔ٹرک وغیرہ کی موجودہ سہولتیں میسر نہ تھیں۔انہوں نے بابو صاحب سے وعدہ لیا تھا کہ ان کی نعش ہر ممکن کوشش سے قادیان پہنچائی جائے۔چنانچہ آپ نے حضرت ملک مولا بخش صاحب متعین گورداسپور کو اطلاع دے کر چند آدمی اُجرت پر منگوائے اور ان کے ذریعہ نعش چار پائی پر اٹھوا کر قادیان لائے۔اس طرح ان کی تدفین (بمطابق وصیت نمبر ۳۲۰) بہشتی مقبرہ میں عمل میں آئی۔مرحومہ کے جدی اقارب میں سے کوئی احمدی نہ تھا۔ان کے بڑے بھائی کو اللہ تعالیٰ مطابق ریکارڈ از دفتر بہشتی مقبره تاریخ تدفین ۲۶۱۲/۱۳ نقل کتبہ: بسم اللہ الرحمن الرحیم مسماة حلیمہ بی بی بنت با بو فقیر علی صاحب قوم سدھر سکنہ قادیان عمر ۱۷ سال وفات ۵۷/۲۳ وصیت نمبر ۲۰۷۶