اصحاب احمد (جلد 3)

by Other Authors

Page 45 of 308

اصحاب احمد (جلد 3) — Page 45

۴۵ روانہ ہوتی ہوئی زبانِ حال سے کہے۔با بلا تیرے گھر بڑا سکھ پایا۔“ میں نے اپنے رب کی دنیا میں بہت بہت سکھ پایا ہے۔میرے وہم (و) گمان سے بالا تر بے شمار مواقع پر اللہ کریم نے دین و دنیا میں خاص یاوری کی ہے۔میں تو مر کر خاک ہوتا گر نہ ہوتا تیرا لطف پھر خدا جانے کہاں یہ پھینک دی جاتی غبار ولله الحمد والمنة آپ کے فرزند محترم بشیر احمد صاحب بیان کرتے ہیں کہ آپ بالعموم یہ نصیحت فرماتے تھے کہ اللہ تعالے برحق ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم برحق ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام برحق ہیں اور خلافت سلسلہ احمدیہ برحق ہے۔اللہ تعالیٰ کے متعلق کبھی شکوہ نہ کرنا چاہیئے۔جو کچھ عرض کرنا ہو اس کے حضور عرض کرنا اور ہمیشہ شاکر رہنا چاہیئے اور بچی کا رشتہ اس کے جوان ہوتے ہی کر دینا چاہیئے۔ایک عزیز کے تاثرات ذیل کے اوراق میں آپ کی سیرت کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی جاتی ہے۔آپ کے ہمشیرہ زاد بابو اللہ بخش صاحب ریلوے گارڈ ( متعین رحیم یارخاں) بیان کرتے ہیں کہ : آپ شب زندہ دار تھے۔کئی بار اعتکاف بھی بیٹھے۔بمقام بہت پور مکیریاں (ضلع ہوشیار پور ) سلسلہ کی طرف سے تبلیغی مرکز قائم ہونے سے قبل آپ وہاں تبلیغ کرنے جاتے۔تبلیغی وفد بھی لے جاتے اور جلسے منعقد کراتے تھے۔وہاں آپ کی ہمشیرہ رہائش پذیر تھیں۔آپ کی مساعی کے نتیجہ میں وہاں جماعت کا قیام عمل میں آیا (میاں بشیر احمد صاحب بیان کرتے ہیں کہ ہماری یہ پھوپھی صاحبہ اور ان کی اولاد آپ کی تبلیغ سے آغوش احمدیت میں آگئے تھے ) ایک دفعہ رخصت لے کر بعض احمدیوں کے ہمراہ آپ تبلیغ