اصحاب احمد (جلد 3)

by Other Authors

Page 40 of 308

اصحاب احمد (جلد 3) — Page 40

پانچ ہوگیاں ( تین سنگل ڈبے اور دو بر یک دان ) تھے۔انجن ایس ، ٹی کلاس تھا۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ تین بجے بعد دو پہر وہاں تشریف لائے اور آپ کو احباب نے بکثرت ہار پہنائے۔گاڑی کے پاس ہی اذان کہی گئی۔اور حضور نے پلیٹ فارم پر بہت بڑے مجمع کو ظہر وعصر کی نمازیں جمع کر کے پڑھائیں۔پھر احباب نے آپ سے مصافحے کئے۔بعد ازاں آپ نے اپنے ڈبہ کے دروازے میں کھڑے ہوکر یہ فرماتے ہوئے کہ دوست دعا کریں۔اللہ تعالٰی ریل کا قادیان میں آنا مبارک کرے۔ہاتھ اٹھا کر چند منٹ تک مجمع سمیت نہایت توجہ اور الحاح کے ساتھ دعا کی۔آپ کے آنے کے بعد گاڑی کی روانگی تک مدرسہ احمدیہ کے سکاؤٹ نہایت خوش الحانی سے اردو اور پنجابی نظمیں پڑھتے رہے۔نیز انہوں نے کئی ایک قطعات سے جو سُرخ رنگ کے کپڑوں پر چسپاں تھے۔گاڑی کو خوب سجا رکھا تھا۔یا بعض قطعات یہ تھے: (۱): أَلَا إِنَّ رَوْحَ اللَّهِ قَرِيبٌ أَلَا إِنَّ نَصْرَ اللَّهِ قَرِيبٌ يَأْتُونَ مِنْ كُلَّ فَجٍّ عَمِيقٍ يَأْ تِيْكَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ۔(۲) إِذَا الْعِشَارُ عُطِلَتْ وَإِذَا النُّفُوسُ زُوِّجَتْ (۳): دنیا میں ایک نذیر آیا۔پر دنیا نے اسے قبول نہ کیا لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کردے گا۔(۴): أَهْلَا وَّ سَهْلاً وَمَرْحَبًا۔(۵): خوش آمدید۔(۶): غلام احمد کی ہے۔(۷) یہ میرے رب سے میرے لئے اک گواہ ہے یہ میرے صدق دعویٰ پر مہرالہ ہے۔خاکسار بھی مدرسہ احمدیہ کے ان سکاؤٹس میں شامل تھا۔قادیان سے ہم سب شدید سردی میں میں صبح منہ اندھیرے پا پیادہ ریلوے لائن کے ساتھ ساتھ تو بٹالہ اور وہاں سے سوار ہو کر امرتسر پہنچے تھے۔خاکسار کے برادر خورد ملک برکت اللہ صاحب ایڈوکیٹ ساہیوال ( سابق منٹگمری) جو ان دنوں مدرسہ تعلیم الاسلام قادیان میں زیر تعلیم تھے۔باوجود نہایت خوردسالی کے باصرار ہمارے ساتھ ہو لئے تھے۔خاکسار نے مدت مدید تک اس روز کا اپنا ریلوے ٹکٹ امرتسر تا قادیان سنبھالے رکھا اور سفر کے چشم دید حالات بھی۔لیکن غالباً یہ سب کچھ تقسیم ملک کی نذر ہو گیا۔