اصحاب احمد (جلد 3) — Page 41
۴۱ حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب نے ریل گاڑی کے جاری ہونے کے متعلق ایک چو ورقہ تقسیم کرایا۔اور ایک بھائی نے پنجابی میں منظوم ٹریکٹ اس بارے میں شائع کیا۔جماعت احمدیہ کے معاند مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری بھلا چُپ کیوں رہتے۔انہوں نے بھی کاغذ کا ایک پرزہ تقسیم کر دیا جس میں لکھا۔” خلیفہ قادیان اور قادیانی اس خر د قبال کا استقبال کرنے کو امرتسر سٹیشن پر 66 آتے ہیں۔گاڑی نے مقررہ وقت پر بعد دو پہر تین بج کر بیالیس منٹ پر حرکت کی۔جس کے ساتھ اللہ اکبر کا نہایت پُر جوش نعرہ بلند ہوا۔ریلوے یارڈ سے نکلنے تک نعرے جاری رہے وہاں پیل پر گاڑی دیکھنے والوں کا ہجوم اس قدر تھا کہ پل پر سے گزرنا ناممکن ہو گیا تھا۔اللہ اکبر اور غلام احمد کی جے کے نعرے راستہ کے ہر گاؤں اور ہر سٹیشن پر بلند ہوتے تھے۔اگر چہ گاڑی امرتسر میں ہی بالکل بھر پور ہو چکی تھی۔لیکن قادیان کے بہت سے احباب بٹالہ سٹیشن پر پہنچ چکے تھے۔بوجہ کثرتِ ہجوم ایک حصہ گاڑی پر سوار ہونے سے رہ گیا۔حالانکہ بہت سے احباب پائیدانوں پر بھی سوار ہو گئے تھے۔درمیانی سٹیشن وڈالہ گرنتھیاں سے بھی قادیان کے کچھ افراد جوں توں کر کے سوار ہوئے۔وہاں اردگرد کے بہت سے احمدی مردوزن جمع تھے۔گاڑی وقت مقررہ پر چھ بجے شام قادیان سٹیشن پر پہنچی۔حضور مع اہل بیت۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب مع اہل بیت۔حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب۔خاندان حضرت مسیح موعود کے متعدد نو نہال۔حضرت نواب زادہ میاں محمد عبد اللہ خان صاحب۔حضرت مولانا شیر علی صاحب۔حضرت مولانا سید محمد سرور شاہ صاحب حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی ایڈیٹر الحکم حضرت میر قاسم علی صاحب ایڈیٹر فاروق۔حضرت مولوی عبدالمغنی خان صاحب ناظر بیت المال اور بہت سے بزرگان اس گاڑی میں سوار تھے۔اور گوجرانوالہ۔لاہور اور امرتسر کے علاوہ بعض دور دراز کے احباب بھی اس سفر میں شریک ہوئے۔سب سے دُور فاصلہ کے ٹکٹ دو عدد نوشہرہ چھاؤنی کے تھے۔امرتسر سے بٹالہ تک اور بٹالہ سے قادیان تک گاڑی کی رفتار علی الترتیب چھپیں اور پندرہ میل فی گھنٹہ تھی۔وسیع پلیٹ فارم کے علاوہ سٹیشن کے آس پاس مردوں عورتوں اور بچوں کا ایک بہت بڑا ย