اصحاب احمد (جلد 3) — Page 39
۳۹ حضرت بابو فقیر علی صاحب قادیان میں اولین سٹیشن ماسٹر متعین ہوئے۔۱۹ دسمبر ۱۹۲۸ء کو امرتسر سے قادیان کو ریل گاڑی جاری ہوئی۔بعض ڈبے ریز رو کرنے کے لئے محکمہ کو لکھا گیا تھا۔پہلے روز گاڑی کے جاری ہونے پر احمدی مردوزن اور بچے اتنی کثیر تعداد میں امرتسر سٹیشن پر پہنچ گئے کہ گاڑی میں مزید چند ڈبے زائد کئے گئے۔اس میں کل الفضل ۱۲/۸ ۱۱ (زير مدينة اُسی ) آپ کے صاحبزادہ میاں بشیر احمد صاحب کا بیان ہے کہ والد صاحب نے غالباً اس بارہ میں کوشش کی تھی۔بقیہ حاشیہ صفحہ ۳۹: افسر جو سکھ تھے ریلوے حکام کی ایک کثیر تعداد کی معیت میں ریلوے موقت لائحہ عمل کے علاوہ اپنی سپیشل ٹرین میں جو ایک بوگی پر مشتمل تھی۔قادیان آئے۔ان کی آمد کا مقصد یہ تھا کہ رپورٹ کر کے بٹالہ قادیان ریل گاڑی بند کرا دیں۔قادیان کے کوئی نصف صد غیر مسلم معززین بھی پر جمع ہوئے۔افسر موصوف نے صرف دو تین افراد کو ملاقات اور معروضات پیش کر نیکی اجازت دی۔ان احباب نے خاکسار کو تر جمان مقرر کیا اور خاکسار نے ان کی خدمت میں قادیان کی بین الاقوامی اہمیت واضح کی اور بتایا کہ تقسیم ملک کے بعد بھی دور دراز کے ممالک سے احمدی احباب قادیان کی زیارت کے لئے آتے ہیں۔اور گاڑی بند کرنے سے سرکار پر حرف آئے گا۔اور اس طرف توجہ دلائی کہ ایک کثیر تعداد بغیر ٹکٹ کے سفر کرتی ہے۔اس کے مؤثر انسداد سے آمد میں معتد بہ اضافہ ہے۔چنانچہ انہوں نے موقعہ پر ہی کہہ دیا کہ قادیان بٹالہ ریلوے لائن بند کرنے کی تجویز فی الحال ترک کی جاتی ہے۔الحمد اللہ علی ذالک۔ہو سکتا جناب ڈاکٹر عبدالسلام صاحب ۱۹۵۹ء میں برطانیہ سے سرکاری دعوت پر بھارت آئے تو آپ دہلی سے قادیان بھی تشریف لائے۔واپسی کے وقت آپ نے دارالانوار میں مدرسین کے وقار عمل کا بھی معائنہ کیا اور ایک منٹ تقریر بھی کی۔ان دنوں ڈیڑھ دوصد مدرسین تحصیل بٹالہ وغیرہ کا قادیان میں کیمپ لگا ہوا تھا۔کیمپ کے منتظم کیپٹن سردار کرتا رسنگھ فزیکل انسٹرکٹر سکھ نیشنل کالج قادیان نے ڈاکٹر صاحب کو الوداع کہتے ہوئے بتایا کہ قریب میں ریلوے مجسٹریٹ نے بٹالہ میں ایک کثیر تعداد بلا ٹکٹ سفر کرنے والوں کی گرفتار کی۔اور جب بعض لوگوں نے اپنی سکونت قادیان بتلائی تو اس نے انہیں کہا کہ آپ لوگوں کو شرم نہیں آتی۔اتنے سالوں سے قادیان میں رہتے ہو۔وہاں کے احمدیوں سے اتنا سبق نہیں سیکھا ؟ ان کا ایک بھی فرد بلا ٹکٹ سفر کرتے دیکھا ہے؟۔