اصحاب احمد (جلد 3)

by Other Authors

Page 250 of 308

اصحاب احمد (جلد 3) — Page 250

۲۵۰ شملہ میں خدمات شملہ میں آپ ابتدائی احمد یوں میں سے تھے۔اور معلوم ہوتا ہے کہ قبول احمد بیت کے جلد بعد آپ نے اپنی سرگرمی کی وجہ سے ایک ممتاز درجہ حاصل کر لیا تھا۔سلسلہ کے اور اخبارات کے چندے آپ کے ذریعہ مرکز میں بھجوائے جاتے تھے ہیں۔سلسلہ احمدیہ کے ابتداء میں صدر اور امیر کے عہدے نہیں تھے۔بلکہ سیکرٹری جماعت کا سربراہ ہوتا تھا۔اور صدر اور امیر والے فرائض سرانجام دیتا تھا۔چنانچہ خاں صاحب اس جماعت کے سیکرٹری اور پھر جنرل سیکرٹری تھے۔پھر ۱۹۱۲ء میں اُمراء کے تقرر کا طریق جاری ہونے پر آپ امیر مقرر ہوئے۔اور ۱۹۳۲ء میں پنشن پانے تک اس ذمہ داری کو نہایت کامیابی سے ادا کر کے سُرخرو ہوئے۔آپ نے جماعت کی تنظیم و تربیت بہترین رنگ میں کی۔آپ کی لائق تحسین ہمت و مساعی اور قابل رشک اسوہ اور روح مسابقت کی وجہ سے یہ جماعت قابل قدر مالی و تبلیغی وغیرہ خدمات کی توفیق پاتی رہی۔آپ کی قلمی و لسانی خدمات کا بیشتر حصہ قیام شملہ کے زمانہ سے متعلق ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو آپ معروف تھے اور مخلص بھی ہیں ہیں۔بقیہ حاشیہ صفحہ ۲۴۲۔" مکرم خان صاحب کی عمر اس وقت ۸۲ سال سے تجاوز کر چکی ہے۔جس کی وجہ سے وہ کمزور ہو گئے ہیں اور اچھی طرح چل پھر نہیں سکتے۔اس کے علاوہ انہیں بعض عوارض مثلاً فتق موتیا وغیرہ بھی ہیں۔جن کے باعث انہیں کچھ تکلیف رہتی ہے۔اس لئے احباب مکرم خاں صاحب کو اپنی دعاؤں میں خاص طور پر یا درکھیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں صحت دے۔ان پر رحم کرے اور ان کی باقی زندگی کے دن خیریت سے گزار دے اور ان کا انجام بخیر کرے۔آمین۔“ مثلاً (۱) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشاد پر لبیک کہتے ہوئے مرکز کے ایک اخبار کے لئے جماعت شملہ نے چار روپے خاں صاحب کی معرفت بھجوائے۔(البدر ۱۸ ستمبر ۱۹۰۳ء ص ۳۴) آپ کی معرفت کسی کا چندہ بدر اور چندہ ریویو آف ریلیجنز ادا ہونا ( بدر ۱۰ جون ۱۹۰۵ء ) ( ص ۸ کالم ۲) ریویونومبر ۱۹۰۲ء سرورق صفحه ماقبل آخر : شوری ۱۹۲۶ء میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ امراء جماعت کا تقرر میعادی