اصحاب احمد (جلد 3) — Page 249
۲۴۹ تھی۔محترم خاں صاحب بھی اس کارخیر میں شامل تھے ہیں۔(۷): حضرت خلیفہ ثانی رضی اللہ عنہ نے بعض ایسی تحریکات کی تھیں جن کے نتیجہ میں قلبی اور ذہنی طور پر جماعت کو خدمت اسلام کے لئے تیار کرنا مقصود تھا۔تا موقعہ آنے پر امام جماعت کی ایک ہی صدا پر صد ہزار احباب اعلائے کلمۃ اللہ کے لئے اپنا مال نچھاور کر دیں۔اور ہر چہار جوانب سے لبیک لبیک کی والہانہ آوازیں بلند ہوں۔اس تربیت و تلقین کے نتیجہ میں عدیم المثال مالی قربانی کے نظارے دیکھ کر اعداء سلسلہ انگشت بدنداں ہیں۔آپ کی ایک تحریک آمد اور جائیدادیں وقف کرنے کی بھی تھی۔چنانچہ منشی برکت علی صاحب نے ایک ماہ کی پنشن وقف کی تھی ۲۲۔آپ کی یہ پیشکش صدق دلی سے تھی۔جو اس لہر سے ثابت ہے کہ آپ نے دس گیارہ سال بعد سلسلہ کی طرف سے مطالبہ کے بغیر رضا کارانہ طور پر پانچ ہر روپیہ کا مکان سلسہ کو دے دیا۔اس سے قبل آپ چھ ہزار روپیہ کا ایک ٹرسٹ قائم کر چکے تھے جو ہے۔(۱) آپ کا وصیت نمبر ۲۹۱۹ تاریخ ۹ استمبر ۱۹۲۸ء ماہوار آمد کے ۱/۱۰ اور جائداد کے ۱/۸ کی وصیت تھی۔(۲) پنج ہزاری مجاہدین (ص۲۷۲) (۳) بابت امداد مقامی تبلیغ (رپورٹ سالانہ صدر انجمن احمد یہ ۴۳-۱۹۴۲ء ص ۷ ) الفضل ۲۶ اپریل ۱۹۵۵ء میں ناظم جائیداد صدر انجمن احمد یہ ربوہ کی طرف سے مکرم خانصاحب منشی برکت علی صاحب شملوی کا عطیہ۔احباب کی خدمت میں درخواست دعا “ کے عنوان کے تحت اعلان ہوا: یہ امر نہایت خوشی کا موجب ہے کہ مکرم خاں صاحب منشی برکت علی صاحب شملوی نے اپنا مکان واقعہ محلہ دار الرحمت ربوہ قیمتی ۵ ہزا رو پید اغراض سلسلہ کے لئے صدر انجمن احمدیہ کے پاس ہبہ کر دیا ہے۔اس سے پیشتر وہ ایک ٹرسٹ چھ ہزار روپیہ کا اپنی اہلیہ صاحبہ مرحومہ کی طرف سے صدر انجمن احمد یہ میں قائم کر چکے ہیں۔چنانچہ آج کل اس کا نفع تین سو روپیہ سالانہ مل رہا ہے۔جو اُن کی خواہش کے مطابق صدقہ جاریہ کے طور پر صیغہ نشر و اشاعت میں دین کے کاموں میں خرچ ہورہا ہے۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی اس قربانی کو منظور فرمائے اور انہیں بہت بہت نیک اجر دے۔آمین