اصحاب احمد (جلد 3) — Page 198
۱۹۸ دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام مسجد میں مجلس میں تشریف فرما تھے اور خدام سے مختلف دینی باتیں کر رہے تھے کہ حضور اچانک اُٹھ کر سیڑھیوں سے اُتر کر ڈھاب کی طرف تشریف لے گئے۔دو تین احباب بھی ساتھ گئے۔انہوں نے بتایا کہ ڈھاب میں بہت پانی تھا۔لڑکے نہا اور کھیل رہے تھے۔ایک لڑکا ڈوبنے کو تھا کہ حضور نے جھٹ ہاتھ بڑھا کر اسے باہر نکال لیا۔واپس آکر مجلس میں بیٹھ کر بات چیت میں مصروف ہو گئے ہو۔(۲۰) : شملہ میں ایک صاحب سائیں خدا بخش نام سرکاری چھاپہ خانہ میں ملازم تھے۔اس کا لڑکا غالبا محمد حسین نام تھا۔جو اٹھارہ انیس سالہ نوجوان تھا اور اسے کالے علم یعنی جادو وغیرہ اور تسخیر جن کے علم کا بہت شوق تھا۔اور اس میں اسے بہت مہارت حاصل تھی۔وہ غیر احمدی تھا اور اس نے بیعت نہیں کی تھی اس نے ایک دفعہ ہمیں سنایا کہ میں قادیان میں حضرت مرزا صاحب کو ملنے کیلئے گیا اور جب میں نے بعد السلام علیکم کے مصافحہ کیلئے حضور کے ہاتھ میں ہاتھ دیا۔تو مجھے ایسا محسوس ہوا کہ گویا وہ سارا علم سر سر کر کے جس طرح کسی کے بدن سے ہوا نکل جاتی ہے میرے جسم میں سے نکل گیا۔اور بعد ازاں میں بالکل کورے کا کورا رہ گیا۔حضور کی نظر میں آپ کا اخلاص ۱۵ جون ۱۹۰۷ء کو حضرت مفتی محمد صادق صاحب نے جو ان دنوں قادیان میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خط و کتابت کا کام کرتے تھے۔منشی برکت علی صاحب کو شملہ ایک پوسٹ کارڈ لکھا کہ : حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب چار پانچ آدمیوں کے ساتھ شملہ آتے ہیں۔ڈاکٹروں نے مشورہ دیا ہے کہ ایسا کریں۔کل جب خانصاحب نے اجلاس خدام الاحمدیہ میں یہ روایت بیان کی تو قاضی عبدالرحمن صاحب معاون ناظر اعلیٰ صدر انجمن احمد یہ ربوہ نے اٹھ کر بتایا کہ میرے چچا زاد بھائی قاضی عبدالرحیم صاحب بیعت کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس گئے ہوئے تھے۔انہوں نے یہ واقعہ مجھ سے بیان کیا تھا اور بعد میں بدر میں بھی شائع کیا گیا تھا۔