اصحاب احمد (جلد 3)

by Other Authors

Page 197 of 308

اصحاب احمد (جلد 3) — Page 197

۱۹۷ تقریروں میں اس بات کا اظہار کیا کہ حکومت نے جو کچھ کیا ہے خواہ وہ درست نہ بھی ہو لیکن اسلام ہڑتال کی اجازت نہیں دیتا۔حضور بغاوت کو سخت نا پسند فرماتے تھے۔اور اپنی جماعت کو ہدایت فرماتے تھے کہ وہ وفادار رہے۔ان احکام کی روشنی میں میں نے "حقوق انسانی پر مضمون لکھ کر حضور کی خدمت میں بھیجا کہ اگر حضور پسند فرما ئیں تو اس کو اخبار میں اشاعت کے لئے بھجوا دیں۔چنانچہ حضور نے البدر میں شائع کروا دیا تھا۔(۱۶): حضور کے آخری ایام میں جماعت بڑھ گئی تھی۔اور چھ سات سو دوست جلسہ سالانہ پر تشریف لائے تھے۔حضور نے پیغام بھیجا کہ جب جلسہ ختم ہو تو سب احباب بازار میں سے گذر کر واپس آئیں۔تاکہ غیر احمدی اور ہندو مشاہدہ کریں کہ کس طرح خدا تعالیٰ کی وحی کی باتیں پوری ہو رہی ہیں۔اور دور دور سے لوگ ہماری طرف کھنچے چلے آرہے ہیں اور چند ہی سیال میں خدا تعالیٰ کے فضل سے جماعت ہزاروں تک پہنچ گئی ہے۔چنانچہ حضور کے ارشاد کی تعمیل کی گئی۔یہ ارشاد اسلام کی صداقت اور اپنی سچائی کے اظہار کے لئے تھا۔نہ کہ کسی ریا کی وجہ سے۔(۱۷) جلسہ سالانہ کے موقعہ پر ہم ایک دفعہ اس مہمان خانہ میں جہاں بعد میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے سکونت رکھتے تھے۔اُترے ہوئے تھے۔تھوڑے سے مہمان تھے۔حضور کی تشریف آوری کا انتظار تھا۔حضور کی تشریف آوری پر خدام نے عرض کیا کہ حضور تقریر فرما کر مستفید فرما ئیں۔آپ نے تقریر فرمائی۔شروع میں ذرا لکنت معلوم ہوتی تھی۔مگر بعد میں آواز بلند اور صاف ہوتی گئی۔یخنی کہ حضور بڑی دیر تک بلا تکلف تقریر فرماتے رہے۔(۱۸): ان دنوں طاعون شروع ہو چکی تھی۔حضور کی طرف سے ایک الہام شائع ہوا۔یا مسیح الخلقِ عدوانا۔چنانچہ اس کے بعد پنجاب میں بڑے زور سے پلیگ پڑی اور بہت سے لوگوں نے حضور کی بیعت کی ہے۔(۱۹): ایک واقعہ ایک دوست نے جس کا نام مجھے یاد نہیں رہا مجھے سنایا کہ ایک خانصاحب کی مراد یہ ہے کہ ان کے قبول احمدیت کے بعد طاعون کے متعلق یہ الہام ہوا۔سو ( قبل از بیعت کا ) ۱۸۹۸ء کے الہام نہیں بلکہ ۲۱ اپریل ۱۹۰۲ء والا الہام مراد ہے۔