اصحاب احمد (جلد 3) — Page 199
۱۹۹ شام کو اتوار کے دن انشاء اللہ یہاں سے چلیں گے یا ایک دو روز بعد ان کے واسطے رہائش و آسائش کا انتظام مناسب کر دیں۔“ اس پر حضور علیہ السلام نے اپنے دست مبارک سے کنارے پر تحریر فرمایا: ” میری طرف سے مخلص دوستوں کو تاکید ہے کہ مکان وغیرہ آرام کے اسباب میرے لڑکے محمود احمد کے لئے میسر کریں۔مرزا غلام احمد " خاکسار مؤلف عرض کرتا ہے کہ ظاہر ہے حضور نے یہ خط لکھوایا تھا اور اس کی اہمیت کے باعث حضرت مفتی صاحب نے حضور کو لکھ کر دکھا دیا یا حضور کے قریب ہی بیٹھ کر تحریر کیا اور تاکید کی خاطر حضور نے اپنی قلم مبارک سے چند الفاظ رقم فرمائے۔چونکہ ان الفاظ میں مخلصین کو تاکید کی ہے تو گویا خانصاحب ضرور بطور ایک مخلص مُرید کے حضور کو معروف تھے۔تبھی ان کے ذریعہ دیگر احباب کو مخاطب کیا گیا۔وصال سے دو چار دن قبل کی تحریر آپ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں دعا کے لئے کئی بار خطوط لکھے مگر وہ محفوظ نہیں۔۲۰ مئی ۱۹۰۸ء کو میں نے دعا کے لئے ایک چٹھی لکھی تو اس پر حضور نے اپنے دست مبارک سے (گویا وصال سے دو چار روز قبل۔مؤلف ) تحریر فرمایا:۔السلام علیکم اسی طرح کبھی کبھی یاد دلاتے رہیں۔مرزا غلام احمد یہ خط بھی بطور تبرک میرے پاس موجود ہے۔اصل میں تبرک اخلاص اور عقیدہ سے تعلق رکھتے ہیں۔اگر اخلاص اور عقیدہ نہ ہو تو تبرک کسی کام کا نہیں۔اگر اخلاص اور عقیدہ ہو تو تبرک سونے پر سہا گہ کا کام دیتا ہے۔لیکن اگر سونا ہی نہ ہو تو سہا کہ کیا کام دے گا۔مرتب روایات لکھتے ہیں کہ یہ کارڈ خان صاحب نے بعض احباب کو دکھایا۔