اصحاب احمد (جلد 2) — Page 691
691 ۲۷ - ۲۴ اکتوبر ۱۹۰۴ء کو حضور رقم فرماتے ہیں: خدا تعالیٰ جلد تر شفا بخشے آمین۔میں نے ان دنوں میں آپ کے لئے بہت بہت دعا کی ہے اور دعا کرنے کا ایسا موقعہ ملا کہ کم ایسا ملتا ہے الحمد للہ کہ جلد یا کسی قدر دیر سے ان دعاؤں کا ضرور اثر ظاہر ہو جائے گا۔۵۱۲ ۲۸- دعاؤں کی تاثیرات کا ذکر کرتے ہوئے حضور نواب صاحب کو تحریر فرماتے ہیں: بسم الله الرحمن الرحيم ۱۲؍ جنوری ۱۹۰۵ء نحمده ونصلى على رسوله الكريم مجی عزیزی اخویم نواب صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔آپ کا عنایت نامہ پہنچا میں دعا میں مصروف ہوں خدا تعالیٰ جلد تر آپ کے لئے کوئی راہ کھولے دنیا کی مشکلات بھی خدا تعالیٰ کے امتحان ہوتے ہیں۔خدا تعالیٰ آپ کو اس امتحان سے نجات دے آمین۔میں اس پر ایمان رکھتا ہوں اور نیز تجربہ بھی کہ آخر دعائیں قبول ہو کر کوئی مخلصی کی راہ پیدا کی جاتی ہے اور کثرت دعاؤں کے ساتھ آسمان پر ایک خلق جدید اسباب کا ہوتا ہے۔یعنی بحکم ربی نئے اسباب پیدا کئے جاتے ہیں۔خدا تعالیٰ کا یہ وعدہ سچ ہے کہ اُدْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمُ جو انقلاب تدبیر سے نہیں ہوسکتا وہ دعا سے ہوتا ہے بایں ہمہ دعا کے ثمرات دیکھنے کے لئے صبر درکار ہے جیسا کہ حضرت یعقوب کی دعاؤں کا اخیر نتیجہ یہ ہوا کہ باراں برس کے (بعد ) * یوسف زندہ نکل آیا۔ایمان میں ایک عجیب برکت ہے جس سے مردہ کام زندہ ہو جاتے ہیں سو آپ نہایت مردانہ استقامت سے کشائش وقت کا انتظار کریں اللہ تعالیٰ کریم و رحیم ہے اور میری طرف سے اور والدہ محمود کی طرف سے گھر میں السلام علیکم ضرور کہہ دیں۔علیکم والسلام خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنہ ۵۱۳۔ذیل کے مکتوب میں رضاء بالقضاء وغیرہ متعدد امور پر روشنی پڑتی ہے۔حضور نواب صاحب کو تحریر فرماتے ہیں: