اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 605 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 605

605 66 سید ہ نواب مبار کہ بیگم صاحبہ فرماتی ہیں ” یعنی بوجہ وفات مبارک احمد مسنون طور پر۔“ حضرت اقدس کا وصال حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وصال کے متعلق نواب صاحب کی نوشتہ ڈائری ذیل میں درج کی جاتی ہے۔۲۶ رمئی ۱۹۰۸ ء منگل آج حضرت اقدس مسیح موعود مہدی معہود مرزا غلام احمد صاحب۔رئیس قادیان کا انتقال ہو گیا۔حضور علیہ السلام جس روز سے لاہور آئے تھے کم و بیش مرضِ اسہال میں مبتلا ہو گئے مگر کل کھانے کے بعد باوجود اسہالوں (کے) پیغام صلح کا مضمون لکھتے رہے اور معمولی اسہال سمجھے گئے۔شام کو سیر کو گئے۔رات کو کھانا کھایا مگر چند نوالے ہی کھائے تھے کہ اسہال کی حاجت ہوئی۔آپ نے کھانا چھوڑ دیا اور جائے ضرور گئے۔وہاں اسہال آیا۔اس کے بعد پھر ایک دو اسہال ہوئے۔پھر بارہ بجے کے قریب اسہال ہوا اور ایک قے بھی ہوئی جس سے طبیعت بہت گھٹ گئی اور برداطراف ہو گیا۔نبض ساقط ہو گئی۔بالکل مایوسی ہوگئی۔مگر ادویات کے یہ ڈائری حضرت میر محمد اسمعیل صاحب رضی اللہ عنہ کی طرف سے ذیل کے نوٹ کے ساتھ الفضل بابت ۴۵-۲-۱۵ میں شائع ہوئی تھی۔یہ تمام ڈائری خود حضرت نواب صاحب کے ہاتھ کی لکھی ہوئی تحریر سے نقل کی گئی ہے اور حضور علیہ السلام کی وفات کے متعلق ایک مستند بیان ہے جو قابل اندراج تاریخ سلسلہ ہے اور کوئی فقرہ اس میں سے محذوف نہیں کیا گیا۔“ خاکسار مؤلف عرض کرتا ہے کہ میں نے بھی یہ اصل ڈائری دیکھی ہے۔یہاں ایک تو ۲۹ مئی کی ڈائری زائد درج کی جارہی ہے۔دوسرے مطبوعہ ڈائری میں ایک حصہ غالباً سہوا چھوٹ گیا ہے وہ بھی یہاں درج کر دیا گیا ہے۔اس چھوٹے ہوئے حصہ کے شروع میں نشان × آخر پر * دے دیا گیا ہے۔تیسرے اس کے حاشیہ میں نوٹ حضرت میر صاحب کے ہیں جو الفضل سے منقول ہیں۔سوائے ان کے جن کے آخر پر لفظ مؤلف مرقوم ہے۔چوتھے الفضل میں بعض الفاظ فقرات کی تکمیل کے لئے زائد کئے گئے تھے جو وہاں ظاہر نہیں کئے گئے۔ایسے الفاظ کو میں نے خطوط وحدانی میں درج کر دیا ہے۔پانچویں خط کشیدہ الفاظ وہ ہیں جو اصل ڈائری میں درج ہیں لیکن الفضل میں درج ہونے سے رہ گئے (مؤلف)