اصحاب احمد (جلد 2) — Page 604
604 وفات صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب کے حالات زندگی مفصل طور پر مع تصویر اصحاب احمد جلد اول میں درج ہو چکے ہیں۔صاحبزادہ صاحب ۱۴ / جون ۱۸۹۹ ء کو پیدا ہوئے۔سب سے چھوٹا ہونے کی وجہ سے حضرت اقدس کو اُن سے طبعا زیادہ محبت تھی۔اُن کی وفات پر حضور نے صبر و رضا کا کامل نمونہ دکھایا۔اُن کی وفات کے تعلق میں حضرت نواب صاحب اپنی ڈائری میں تحریر فرماتے ہیں: ارستمبر ۱۹۰۷ء آج میاں مبارک احمد صاحب فرزند حضرت اقدس کا انتقال صبح قریباً ساڑھے پانچ بجے نماز صبح ☆ ہو گیا۔انا لله وانا اليه راجعون۔قریباً ۸ یا ۹ سال کی عمر تھی۔نہایت شریف بچہ تھا۔مگر اللہ رےاستقلال ! حضور علیہ السلام کی پیشانی پر ذرا بل نہ تھا۔جنازہ مدرسہ میں پڑھایا گیا اور جنازہ پھر وہاں سے مقبرہ بہشتی لیجا کر دفن کیا گیا قبر میں کچھ دیر تھی حضور علیہ السلام مع خدام کچھ سایہ میں بیٹھ گئے۔فرمایا انسان کے لئے خداوند تعالیٰ فرماتا ہےادعونی استجب لکم۔یہ ایک وقت ہوتا ہے اور بندہ مانگتا ہے خدا دیتا ہے۔یہ ایک طرف ہے۔دوست کا ہمیشہ کام ہے کہ چند اپنے دوست کی مانتا ہے تو ایک اپنی منواتا ہے۔خداوند بہت سی مانتا ہے تو کبھی اپنی بھی منواتا ہے۔پس جو شخص ایسے وقت ماننے سے رُکے وہ بد بخت ہے۔جو انسان ہمیشہ خوشی میں رہتا ہے اس سے بڑھ کر کوئی بدنصیب نہیں۔اس کو کبھی دولت ایمان حاصل نہیں ہوسکتی۔جب خوشی ہے تو رنج بھی ضرور ہے۔پس قضاء الہی پر راضی ہونا چاہیئے۔یہی ترقیات کا وقت ہوتا ہے۔جہاں خدا فرماتا ہے ادعونی استجب لکم دوسری طرف فرماتا ہے ولنبلونکم بشى من الخوف الخ۔پہلی میں وعدہ نہیں مگر یہاں وعدہ ہے کہ بشر الَّذِينَ۔۔۔اذا أَصَابَتْهُمْ مُصِيبَةٌ قَالُوا إِنا اللهِ وإِنَّا إليه راجعون تو ان کی بابت آگے فرماتا ہے۔۔۔علیهم صلوات من ربِّهم ورحمة - پس یہی ترقیات کا وقت ہے۔پس کبھی خدا کی مانی چاہئیے اور اسکی رضا پر راضی ہونا چاہئیے“۔* نیز تحریر فرماتے ہیں کہ حضرت اقدس کی طرف دو وقت کھانا بھیجا گیا۔“ جنازہ کہاں پڑھا گیا اس کا علم صرف اس ڈائری سے ہوتا ہے (مؤلف) یہ لفظ درست طور پر نہیں پڑھا گیا۔دولت یا لذت میں سے ایک لفظ ہے۔(مؤلف)