اصحاب احمد (جلد 2) — Page 606
606 استعمال اور مالش سے پھر طبیعت گرم ہوگئی۔نبض عود کر آئی۔تین بجے میرے بُلانے کو نور محمد بھیجا گیا اتفاق سے راستہ میں گھوڑ اگر گیا اس لئے ٹم ٹم دیر میں پہنچی۔اس وقت نماز کا وقت ہو گیا تھا پہرہ والے کے آواز دینے پر میں اُٹھا نماز پڑھ کر روانہ ہوا۔کوئی پانچ بجے حضرت اقدس کی خدمت میں پہنچا۔اس وقت حضرت ام المومنین برقع پہنے چار پائی کی باہنی پر سر رکھے زمین پر بیٹھی تھیں اور ڈاکٹر محمد حسین شاہ۔ڈاکٹر یعقوب بیگ موجود تھے۔خواجہ کمال الدین۔حضرت مولانا مولوی نورالدین۔میاں محمود۔میاں بشیر اور شیخ عبدالرحمن قادیانی وغیرہ وغیرہ موجود تھے۔ڈاکٹر یعقوب بیگ صاحب نے مجھے کہا کہ شکر ہے نہایت نازک حالت سے طبیعت ٹھیک ہوئی ہے۔حضرت اقدس کی حالت یہ تھی کہ بدن گرم تھا اور کرب تھا مگر حواس ٹھیک تھے۔آہستہ آہستہ بولتے تھے۔ایک دو دفعہ کروٹ بدلنے پر آنکھ کھولی میری طرف دیکھا میں نے سلام علیک کہا آپ نے کہا وعلیکم السلام۔چھ بجے کے قریب ڈاکٹر یعقوب بیگ صاحب کو کہا کہ میری آواز نہیں نکلتی یہ ہم نے بخوبی سمجھا۔پھر کوئی ساڑھے سات بجے اُٹھ کر بیٹھے اور قلم دوات منگوائی اور ایک پرچے( پر ) لکھا جو باہر جا کر پڑھا تو یہ لکھا تھا کہ تکلیف یہ ہے کہ آواز نہیں نکلتی۔اتنا حصہ صاف پڑھا گیا چونکہ کچھ اتفاق سے سیا ہی خراب اس پر قلم بھی خراب پے رکھنے کے لئے چیز بھی جلدی میں دی گئی تھی آخری نصف سطر نہ پڑھی گئی۔آٹھ بجے کے بعد پھر جو ریلیپس RELAPSE ہوا ہے پھر طبیعت نہیں سنبھلی۔آخر ساڑھے دس بجے انتقال فرمایا إِنَّا لِللَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُون - حضرت ام المومنین نے وہ صبر دکھلایا کہ باید و شاید۔جب حضرت کا دم واپسیں تھا اس وقت آپ نے فرمایا کہ اے اللہ یہ تو ہمیں چھوڑتا ہے تو ہمیں نہ چھوڑی۔اور جب ( حضرت ) اقدس نے انتقال فرمایا تو فرمایا " إِنَّا لِلَّهَ وَانَّا إِلَيْهِ رَاجِعُون “ اور بس خاموش ہو گئے اور کسی کو رونے نہیں دیا۔بعد انتقال حضرت تمام جماعت نے نہایت صبر دکھلایا اور تھوڑے وقفہ بعد تمام موجود جماعت کے آدمی یکے بعد دیگرے آئے اور حضرت اقدس کی پیشانی پر بوسہ دیتے گئے۔ڈاکٹروں ( نے ) مرض تشخیص کی کہ اسہالوں کی وجہ سے امعاء میں سوزش ہوئی اور حضرت اقدس کو دل گھٹنے اور برداطراف کا جو دورہ ہمیشہ ہوتا تھا وہ سخت پڑا اس لئے انتقال ہوا۔حضور علیہ السلام کا مسودہ مضمون دیکھا گیا تو اصل بات حضرت ختم کر چکے تھے۔بعد انتقال حضرت اقدس ہم لوگ ذرا باہر بیٹھے اور شیخ رحمت اللہ صاحب اور خواجہ کمال الدین صاحب اور ڈاکٹر یعقوب بیگ صاحب اور ڈاکٹر محمد حسین شاہ صاحب سول سرجن صاحب مسر کنگھم کے پاس سرٹیفکیٹ کے لئے گئے۔سرٹیفکیٹ ملنے پر جس میں سول سرجن صاحب * ڈائری میں یہ لفظ موجود ہے نہ کہ موجودہ (مؤلف) مسودہ مضمون یعنی لیکچر پیغام صلح کا مسودہ۔