اصحاب احمد (جلد 2) — Page 590
590 تین دن سے مراد ا کثر تین سال ہوتے ہیں کیونکہ ایک دن رؤیا میں ایک سال گنا جاتا ہے جیسا بدر کے متعلق۔یعنی تین سال میں کسر صلیب ہوگی۔۴ راپریل ۱۹۰۲ء نماز صبح ۴:۴۰ سے ۴:۵۵ تک ۱۹مئی ۱۹۰۲ء ۱۹ رمئی ۱۸۹۳ء کو بروز جمعہ زینب پیدا ہوئی تھی بحساب کشی آج زینب کی عمر 9 سال کی ہوئی۔۱/۱۷ اکتوبر ۱۹۰۲ء کے دربار شام کے تحت الحکم میں مرقوم ہے۔طاعون کا ذکر شروع ہونے پر نواب صاحب سے مالیر کوٹلہ کا حال دریافت فرماتے رہے اور پھر فرمایا کہ پنجاب جو پکڑا ہوا ہے اس ستر کو بھی تو معلوم کرنا چاہئے۔بعض مشابہ بالطاعون گلٹیاں ہوتی ہیں اور ان کے ساتھ بخار بھی آتا ہے مگر دراصل وہ طاعون نہیں ہوتی ہے۔طاعون تو لکھا ہے الطاعون الموث جس کے آثار خطرناک ہوتے ہیں اور اس کے نمودار ہوتے ہی رنگ سیاہ ہو جاتا ہے اور سرسام ہو کر پھر چند ہی گھنٹوں میں خاتمہ ہو جاتا ہے۔" ’اصل بات تو یہی ہے کہ اب بجز خدا کے سہارا نہیں ہے۔اس کے فضل سے سب کچھ ہو جاتا ہے۔کل صبح پھر میری زبان پر جاری ہوا انسی أحافظ كُلّ من في الدار مگر اس کے ساتھ ایک انذار بھی لگا ہوا ہے الا الذين علوا باستكبار - یہ انذار برابر چلا ہی جاتا ہے۔علو کی دو قسمیں۔اللہ تعالیٰ کے کلام میں یہ بھی ہوتا ہے کہ ایک انذار ہوتا ہے اور اس کی غرض یہ ہوتی ہے کہ متنبہ رہیں چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ مجھے سورہ ہود نے بوڑھا کر دیا اور اسی طرح پر یہ انذار بھی کم نہیں ہے الا الـذيـن عـلوا باستکبار یا درکھو کہ علو دو قسم کا ہوتا ہے ایک تو وہ علو ہے جو شیطانی علوابی و استکبر میں آیا ہے اور شیطان کے حق میں علو بھی آیا ہے جیسے فرما یا أم كُنت من العالين یعنی تیرا یہ استعلا تکبر کے رنگ میں ہے یا واقعی تو اعلیٰ ہے ورنہ حقیقی علو تو خدا تعالیٰ کے خاص بندوں کے لئے ہے جواما بنعمة ربك فحدث T کے موافق اس کو ظاہر کر سکتے ہیں۔جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو فر مایا لا تخف انک انت الاعلیٰ۔یہ علو جو خدا تعالیٰ کے خاص بندوں کو دیا جاتا ہے وہ انکسار کے رنگ Ma