اصحاب احمد (جلد 2) — Page 591
591 ۱۹ اکتوبر ۱۹۰۲ء آج کی تاریخ عبدالرحمن یعنی ۱۹ اکتو بر ۱۸۹۴ء کو بروز جمعہ۔۔۔پیدا ہوا تھا۔عمروں کا تفاوت حسب ذیل ہے۔زینب سے عبدالرحمن ایک سال پانچ ماہ چھوٹا ہے اور عبد الرحمن سے عبداللہ ایک سال دو ماہ چودہ یوم چھوٹا ہے اور عبدالرحیم عبد اللہ سے ایک سال چودہ یوم چھوٹا ہے۔ار نومبر ۱۹۰۲ء ڈائری گرمیوں کے آتے ہی لکھنی موقوف ہوئی کچھ ایسا اتفاق ہوا کہ ڈائری لکھنے کا وقت نہ ملا۔وجہ یہ ہوئی کہ سیر صبح سویرے ہونے لگی اس لئے نہ ورزش کے لئے وقت ملتا تھا اور نہ ڈائری کے لئے۔اس لئے یہ دونوں باتیں رہ گئیں۔اور دوسرے وقتوں میں بھی موقعہ نہ ملتا تھا یہ گرمیاں صحت کے لحاظ سے مجھ کو اچھی نہیں گزاریں مگر روحانی فوائد بہت سے ہوئے۔اب میں مختصر کچھ حال موٹے طور سے اپنا لکھتا ہوں اور چند موٹے واقعات جو یاد ہیں لکھتا ہوں اور پھر میں قریباً اپنی ایک سال کی رہائش قادیان کے متعلق کچھ لکھوں گا۔میں قرآن شریف برابر سوائے چند ایام کے ایک دور کوع پڑھتا رہا۔۲- نمازیں سوائے معدودے چند کے اکثر قضاء نہیں ہوئیں اور قریباً اساڑھ کے وسط تک تہجد بھی پڑھتا رہا۔اکثر نمازیں باجماعت پڑھتا رہا۔چند روز بیمار ہونے کی وجہ سے شریک جماعت نہیں ہوا۔سیر سوائے حضرت اقدس کی بیماری یا قریباً ایک ماہ کتاب کشتی نوح کے بنانے کے وقت کے ہمیشہ -٣ بقیہ حاشیہ: میں ہوتا ہے اور شیطان کا علو استکبار سے ملا ہوا تھا۔دیکھو ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب مکہ کو فتح کیا تو آپ نے اسی طرح اپنا سر جھکایا اور سجدہ کیا جس طرح پر ان مصائب اور مشکلات کے دنوں میں جھکاتے اور سجدے کرتے تھے۔جب اسی مکہ میں آپ کی ہر طرح سے مخالفت کی جاتی اور دکھ دیا جاتا تھا۔جب آپ نے دیکھا کہ میں کس حالت میں یہاں سے گیا تھا اور کس حالت میں اب آیا ہوں تو آپ کا دل خدا کے شکر سے بھر گیا اور آپ نے سجدہ کیا۔۴۱۷