اصحاب احمد (جلد 2) — Page 589
589 میرے سے ۸ تک تجاویز متعلق مدرسه ۸ سے ۱۰ تک پڑھانا ۱۰:۳۰ سے ۱۱ تک نماز ظہر ۱۲:۴۵ سے ۱:۱۵ تک نماز عصر ۳ سے ۳:۳۰ تک نماز مغرب و جلسه و نماز عشاء ۶:۳۰ سے ۸ تک ۳۱ مارچ ۱۹۰۲ء نماز صبح ۴:۵۵ سے ۵:۱۵ تک ۲ اپریل ۱۹۰۲ء آج مکا بردا یہ چلی گئی اور ہی کو لے گئی۔غوثاں کو لے جاتی تھی مگر بمشکل رکی۔۱۳ را پریل ۱۹۰۲ء آج بعد نماز صبح حضرت اقدس نے فرمایا کہ میرے غم معدہ میں درد تھا میں نے خیال کیا کہ اس درد سے آدمی مر بھی جاتا ہے اس لئے مجھ پر بڑی رقت طاری ہوئی کہ ہم (نے ) اصل کام یعنی کسر صلیب کا وہ تو کیا ہی نہیں اس لئے ظاہری درد کے ساتھ روحانی درد بھی شروع ہوا۔پس سنتوں میں نہایت رفت تھی اور میں (نے) بڑے سوز گداز سے دعا کی جس سے صاف معلوم ہوتا تھا کہ یہ دعا قبول ہوگئی کیونکہ آثار قبولیت مجھ کو محسوس ہوتے تھے۔خیر نماز کے لئے جو میں آنے لگا تو میری بیوی نے (بی بی صاحبہ ) کہا کہ ٹھہر جاؤ۔مجھ کو اس وقت ایک رؤیا ہوا ہے اور یہ ہے کہ الہام کے طور سے ہے کہ عیسی کے دونوں بازو ٹوٹ گئے۔دونوں بازوؤں سے سب کام ہوتے ہیں۔دونوں بازو شل ہو گئے۔اس سے میں نے سمجھا کہ ادھر میں ( نے ) دعا کی ادھر خداوند تعالیٰ نے اسی وقت ایک شخص کو ر و یا دکھائی۔پس میں نے سمجھا کہ خداوند نے کسر صلیب کی راہ تیار کرنی شروع کر دی ہے پھر غالباً میاں جمال الدین سیکھواں والے یا ان کے بھائی نے یہ رویا سنائی کہ آج ہی صبح مجھ کو رویا ہوئی ہے کہ تمہارے نصیبین جانے میں تین دن رہ گئے ہیں اس ( سے ) حضرت اقدس نے نکالا (کہ) غوشاں کا ذکر مکتوب نمبر ۳۹ میں اور یکم نومبر ۱۹۰۲ء کی ڈائری میں بھی ہے۔