اصحاب احمد (جلد 2) — Page 513
513 کہ یہ مغرب سے سورج کیسا نکلا کہ خلاف عادت میں نے آپ کو یہ خط لکھا۔مگر یہ تعجب کی بات نہیں ہے۔مجھ کو پہلے بھی اور اب بھی جس بات نے تحریک دی ہے کہ آپ کو یہ خط لکھوں وہ آپ کی خیر خواہی اور خدا وند تعالیٰ کے احکام کی تعمیل ہے۔آپ یا اور سمجھتے ہوں کہ مجھ کو آپ سے یا دوسرے صاحبان سے ہمدردی نہیں۔مگر یہ بات غلط ہے۔اسلام اور پھر ہمارے امام کی شرائط بیعت میں یہ بات داخل ہے کہ ہم مخلوق خدا سے عموماً اور بنی نوع انسان سے خصوصاً ہمدردی کریں پھر بھائی اور اہل برادری تو بدرجہ اولیٰ مستحق ہیں۔مگر آپ کو میرے ظاہری برتاؤ سے معلوم ہوتا ہوگا کہ میں ایک روکھا پھیکا انسان ہوں کہ مجھ کو نہ کسی سے ہمدردی ہے اور نہ تعلق۔میں اس ظاہری حالت کی بابت بھی کھول کر سناتا ہوں۔وہ یہ ہے کہ میرا اور ہماری جماعت کے اکثر لوگوں کا یہ وطیرہ ہے کہ ہم نے اس بات پر حضرت اقدس مرزا غلام احمد صاحب رئیس قادیان کے ہاتھ پر بیعت کی کہ ہم اپنے گناہوں سے جن میں ہم گرفتار تھے، تو بہ کی ہے اور ہم نے عہد کیا ہے کہ خداوند تعالیٰ کے ساتھ جو ذرہ ذرہ کا پالنے والا ہے اور بے مانگے دینے والا ہے اور سچی محنت کو ضائع نہیں کرتا اور پھر ہمارا مالک ہے اسی کے سامنے انصاف ہونا ہے اس کی حکومت انصاف کے روز ہوگی۔یعنی وہ اس روز کا مالک ہے جس روز بدوں کو سزا اور اچھوں کو ان کے عملوں کا انعام دیا جائے گا۔ہم دلی تعلق پیدا کریں اور ایسا ان کے قریب ہو جائیں کہ ہم اس کو دیکھ لیں اور اس کے سوا کسی کی حقیقت ہمارے دل میں باقی نہ رہے۔اس کے پیارے لوگوں کے ساتھ محبت رکھیں اور ان کی پیروی کریں۔اور خداوند تعالیٰ کی ہر پیدا کی ہوئی چیز سے ہمدردی کریں اور جس گورنمنٹ کے عہد حکومت میں اس آرام سے زندگی بسر کر رہے ہیں اس کے دل اور جان سے وفادار اور شکر گزار اور جاں نثار رہیں۔اور دین پر دنیا کو مقدم نہ کریں۔یعنی جہاں دنیا اور دین کا معاملہ ہو تو دنیا کا حرج اٹھا لیا جائے مگر دین کو ہاتھ سے نہ چھوڑا جائے۔اور شریعت اسلام کے ہر طرح پابند رہیں۔پس آپ خیال فرما سکتے ہیں کہ میری کسی سے دشمنی یا دوستی کیا ہو سکتی ہے۔میری دوستی یا دشمنی محض اللہ کے لئے ہے ورنہ میں نہ کسی کا دوست اور نہ دشمن ہاں ہر وقت ہمدردی کے لئے حاضر۔مگر اس ہمدردی کے لئے جس کے لئے شریعت اجازت دے۔خدا اور رسول خوش ہوں۔پس مجھ کو آپ سے اور تمام اہل برادری اور تمام کوٹلہ بلکہ ہر ایک جان کے ساتھ ہمدردی ہے مگر جب میں نے دیکھا کہ جو کچھ میں جانتا ہوں اس کو بھائی۔۔۔برادری سب برا جانتے ہیں۔اور جو کچھ مجھ کو پیارا ان کو برا معلوم ہوتا ہے اور جو ان کو پیارا ہے وہ مجھ کو برا معلوم ہوتا ہے۔میں نے پھر بھی چاہا کہ برادری اور کوئلہ کے لوگ سمجھیں مگر کسی نے میری بات نہ سنی آخر جب میں نے دیکھا کہ۔۔۔۔۔۔