اصحاب احمد (جلد 2) — Page 514
514 میرے ساتھ کوئی نہیں ہوتا اور جو کچھ ان کو ان کے فائدہ کے لئے کہا جائے اس سے برا مناتے ہیں ان کے ساتھ میل ملاپ سے الٹا میں گناہ میں پھنستا ہوں اس لئے میں نے کنارہ کشی اختیار کی۔لیکن میرے دل میں درد ہے کہ خداوند تعالیٰ اس خراب حالت سے میرے بھائیوں اور میری برادری اور کوٹلہ کے لوگوں کو چھڑائے۔آپ کو شاید معلوم نہ ہو کہ کوٹلہ کی کیسی بری حالت ہو رہی ہے۔مجھ کو تو حیرت ہوتی رہی ہے کہ اس بستی پر خدا کا عذاب کیوں نہیں آیا۔بدی کی کوئی حد نہیں رہی۔مسلمانوں کی ریاست، ایک ولی اللہ کی اولاد ہو کر وہ خراب باتیں ہوتی ہیں کہ زمین اور آسمان پھٹ جائیں تو بے جا نہیں۔مرد عورت سب ایک رنگ میں رنگے ہوئے ہیں۔خداوند تعالیٰ کا کسی کو خوف نہیں حالانکہ اب خدا کا عذاب بھی آ گیا پھر بھی لوگ نہیں ڈرتے۔وہی بدکاری و چوری وہی چاری وہی ظلم و ہی ستم وہی رنگ رلیاں وہی بہار میں گویا موت کبھی آنی ہی نہیں۔مجھ کو یہ حالت دیکھ کر رونا آتا ہے۔کیونکہ میرے بہت سے عزیز بھی ہیں۔جو میری بات کو سنتے نہیں۔بوصاحبہ! میں آپ سے سچ کہتا ہوں کہ بڑا آفت کا زمانہ ہے یہ زمانہ مسیح موعود اور مہدی آخری زماں کا زمانہ یہ خدا کے دن ہیں۔خدا آج کل نہایت غضبناک ہو رہا ہے۔کہیں قحط ہے کہیں آگ لگ رہی ہے۔کہیں پہاڑ پھٹ رہے ہیں۔اور کہیں طاعون ہے۔ہر وقت عذاب خدا اپنا کام کر رہا ہے۔مبارک وہ جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے اور اس آخری امام اور نبی پر ایمان لے آئے۔وہ شخص جس کو حضرت رسول کریم نے سلام کیا ہے۔آؤ ڈرو اور خدا سے ڈرو بڑا ٹیڑھا وقت آیا ہے۔تمام نسی اور خوشی کو چولھے میں ڈالو۔اورسوگوار ہوکر خدا کے حضور مجرموں کی طرح حاضر ہو جاؤ اور اس کے بھیجے ہوئے پر ایمان لاؤ۔اس کے کہنے پر عمل کرو تا کہ عذاب سے بیچ جاؤ۔دیکھو یہ طاعون جو آیا ہے یہ ہمیشہ عذاب ہی کے طور سے ایسے موقعوں پر آیا ہے۔اس عذاب سے کوئی بھی سوائے اس کے جو خداوند تعالیٰ کی پناہ میں آئے بچ نہیں سکتا۔آسمان ٹل جائے زمین اڑ جائے مگر یہ خدا کی باتیں نہ ملیں گی۔عورتیں اپنے بناؤ سنگار میں لگی رہتی ہیں۔ہر وقت ان کو یہی فکر رہتی ہے کہ ہر وقت نکھری رہیں۔مگر خاک وہ بناؤ سنگار جو آخر آگ کا ایندھن ہو۔اور جس کے ساتھ دوزخ میں جلنا ہو۔سنگار تو وہی عمدہ ہے جس کا چہرہ خدا کے سامنے سرخرو ہو۔تو چند دن کی باتیں ہیں دم آیا نہ آیا چلو چلتے بنے۔آخر خدا ہی سے واسطہ ہے۔پس آپ کو نہایت درد سے لکھتا ہوں کہ آپ اپنے آپ کو سنبھالو اور خدا سے لو لگا ؤ خدا ہی نے کام آنا ہے نہ بھائی کام آئیں گے نہ بہن نہ ماں نہ باپ۔یہ سب دنیا کے انتظام کے رشتے ہیں۔ورنہ پھر کون؟ میرے خیال میں اب آپ کو بھی تجربہ ہو گیا ہو گا کہ نادان دوستوں کی رائے پر چلنے سے کس قدر خرابی ہوتی ہے نہ عزت رہتی ہے نہ آبرو۔پس میں آخر میں لکھتا ہوں کہ دیکھو نیکی کا زیور پہنو۔اور شریعت پر عمل کرو