اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 511 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 511

511 کو احمدیت قبول کرنے پر نواب صاحب نے کہہ دیا تھا کہ اب تم خادمہ نہیں بلکہ تم میری بہن ہو۔کسی قسم بقیہ حاشیہ: - لئے جس وقت آپ کی وفات ہوئی سب کا رخانہ درہم برہم ہو جائے گا۔مگر خداوند تعالیٰ کہتا (ہے) کہ ایسا نہ ہوگا تو ابتر نہیں تیرا دشمن ہی ابتر ہے۔اور ابتر نہ ہونے کی صورت میں ضرور ہے کہ اولاد مانی جائے۔پس تیری اولاد ہے اور (اولاد) بھی کثیر۔کیونکہ تجھے کوثر دی گئی ہے۔مگر دوسری جگہ خداوند تعالیٰ فرماتا ( ہے ) مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٌ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلَكِنْ رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّنَ۔اب یہاں جو دشمن کہتا تھا کہ آپ کے اولا دنرینہ نہیں کیونکہ اولاد ما دنیہ کو تو دشمن دیکھتا تھا اس لئے اس کا مفہوم یہی تھا کہ اولاد نرینہ نہیں۔وہ بات خداوند تعالی تسلیم کرتا ہے کیونکہ جب کسی مرد کے آپ باپ نہیں تو ظاہر ہے کہ آپ کی اولاد نرینہ نہیں اور واقعات سے ثابت ہے کہ آپ کے بعد کوئی اولاد نرینہ نہیں اور حالانکہ دشمن کے اب تک ہے اور پھر خداوند تعالیٰ فرماتا ہے کہ تو ابتر نہیں تیرا دشمن ہی ابتر ہے تو ذرا غور کریں کہ نعوذ باللہ اللہ تعالی خلاف واقعہ باوجود تسلیم کرنے کے آپ کے کوئی نرینہ اولاد نہیں یہ بات کہتا ہے کہ آپ ابتر نہیں بلکہ دشمن ابتر۔تو صاف ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کا منشاء جسمانی اولاد نہیں بلکہ روحانی اولاد ہے تو فرماتا ہے کہ گومحمد مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی مرد کے باپ نہیں مگر اللہ کے رسول ہیں۔تو رسول اپنے متبع کا روحانی باپ ہوتا ہے تو محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح ابتر ہو سکتے (ہیں) ان کے تو کروڑوں بیٹے ہیں اس لئے یہ کارخانہ درہم برہم نہیں ہوسکتا۔اور پھر حضرت نبی کریم جن کو تم ابتر کہتے ہو۔رسول ہی نہیں بلکہ رسولوں کی مہر ہیں۔یعنی دوسری امتوں کے جو روحانی باپ انبیاء ہیں وہ بھی نبی انہی کی مہر تصدیق سے نبی قرار پاسکتے ہیں۔چنانچہ تمام انبیاء پر جو تو ریت انجیل میں الزام لگائے گئے تھے ان تمام کی برآت قرآن شریف نے کر کے ان کو راستباز اور نبی قرار دیا اور آئندہ کے لئے بھی آپ ( کی ) اتباع اور غلامی سے یہ مدارج مل سکتے ہیں۔چنانچہ آپ نے آنے والے مسیح کو نبی اللہ فرمایا ہے اور امام قرار دیا ہے۔اب دیکھو کہ حضرت مرزا صاحب نے تمام عمر کیا کیا۔یہی کہ اسلام کو زندہ مذہب ثابت کیا اس سے زیادہ بتلاؤ کہ کیا کیا ؟ باقی باتیں ضمنی ضروریات کی باتیں ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے مصالح کے ماتحت کیں مثلاً حضرت صاحب فرماتے ہیں کہ چوں مرا نورے پئے قوم مسیحی داده اند مصلحت را ابن مریم نام من بنهاده اند پس مرزا ! موت قریب ہے اس کا کوئی وقت نہیں راستی کی تلاش کرو۔اپنی اور دوسروں کی رائے کا اتباع نہ کریں خدا کے ہو جائیں اور اسلام اُدْخُلُوا فِي السّلْمِ كَافَّة پر عمل درآمد فرما ئیں اور بخن پروری میں نہ پڑیں۔حضرت صاحب فرماتے ہیں۔