اصحاب احمد (جلد 2) — Page 510
510 اور نیک تھی آپ اس کی تعلیم میں بھی مشغول رہتے تھے۔سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ ذکر فرماتی ہیں کہ مرحومہ بقیہ حاشیہ: - مرزا صاحب نے نہ صرف چو دور خسروی آغاز کردند مسلماں را مسلمان باز کردند تمام عالم اسلام کو دعوت حق پہنچائی۔آج ہمارے مشن تمام ہندوستان ، ایران، افغانستان، عرب وٹر کی اور شام و مصر، روس ، جاپان، چین، ملایا، بورنیو، جاوا، انگلینڈ، امریکہ، ماریشس، افریقہ وغیرہ میں موجود ہیں اور وحشی (و) مہذب کو دین حق کی تبلیغ کی جاتی ہے اور وہ کیا ہے کہ خدا ایک ہے۔وہ قدرتوں والا خدا رب العالمین، رحمن و رحیم ، مالک یوم الدین ہے۔تمام انبیاء برحق ہیں۔خدا ( نے ) اپنے بندوں کی ہدایت کے لئے ہر ایک زمانہ میں ہر ایک قریہ میں اپنے نبی بھیجے اور ان کے سب کے سردار محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو رسول اور خاتم النبیین بنا کر بھیجا اور اسلام ہی خدا کا سچا مذہب ہے اور یونہی خوش اعتقادی سے نہیں بلکہ دلائل سے۔اور یہی مذہب زندہ مذہب ہے اور تمام مذاہب مردہ۔کیونکہ اس میں زندگی پائی جاتی ہے اور میں نہیں۔کیونکہ اس مذہب میں حضرت کی غلامی میں مخاطبہ و مکالمہ الہی کا شرف حاصل ہے اور بڑے سے بڑے مدارج روحانی حتی کہ نبوت بھی حضور سرور کائنات کی غلامی سے حاصل ہو سکتے ہیں۔قُلْ إِنْ كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهُ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ الله۔پس مرزا صاحب نے ثابت کر دیا کہ محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہ صرف رسول تھے بلکہ رسول گر۔ان کی مہر کے بغیر نہ پہلا نبی نبی قرار پاسکتا ہے اور نہ بعد کا۔غور سے دیکھیں پہلے انبیاء بھی حضرت محمد مصطفے کی تصدیق کے بغیر ان کی اپنی امتوں کے اقوال کے بموجب معمولی بھلے مانس بھی قرار نہیں پاسکتے چہ جائیکہ بی۔مگر محمد مصطفی کی مہر تصدیق نے ان کو نبی قرار دیا اور محد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعہ ہی الزامات سے ان کی برکت ہوئی۔ورنہ جو کچھ آج کل کے مسلمان پیش کر رہے ہیں اس ذریعہ سے تو نعوذ باللہ حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ( ان پر ہمارے ماں باپ فدا ہوں ) جسمانی روحانی دونوں طرح سے ابتر ثابت ہوتے ہیں اور یہ کیسی تک رسول کریم کی ہے اور دشمن کی پیشگوئی کہ آپ ابتر ہیں کیسی ثابت ہوتی ہے افسوس کہ معمولی طور سے بھی غور نہیں کرتے کہ قرآن شریف میں آتا ہے کہ إِنَّا أَعْطَيْنَكَ الْكَوْثَرُه فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرُه إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْابْتَرُ ہے خداوند تعالیٰ فرماتا ہے ہم نے تجھے کوثر ( ہر چیز کی کثرت ) دی ہے بس اس شکریہ میں تو خدا سے دعائیں کر۔خدا کی حمد وثناء کر اور قربانیاں کر تیرا دشمن ہی ابتر ہے اب اس مقولہ کے بیان کی کیا ضرورت پیش آئی وہ یہ کہ دشمن کہتے تھے کہ محمد مصطفی " کے کوئی نرینہ اولاد نہیں اور اس لئے آپ کو ابتر ( یعنی پنجابی میں جس کو اوتا نیوتا کہتے ہیں) کہتے تھے اور چونکہ اولاد نہیں اس