اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 404 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 404

404 روپیہ سے آپ کو محبت نہ تھی اسے اللہ تعالیٰ کی راہ میں اور اس کی مخلوق پر خرچ کرنے کا شوق تھا۔اور نیکی بقیہ حاشیہ : - ہر طرح سے خیریت ہے۔خدا تعالیٰ آپ کو معہ اہل و عیال سلامت قادیان میں لاوے۔آمین۔آج میں میاں الہی بخش صاحب کو خود ملا تھا۔وہ بہت مضطرب تھے کہ کسی طرح مجھ کو کوٹلہ میں پہنچا یا جاوے اور کہتے تھے کہ کوٹلہ میں میری پنشن مقرر ہے۔جولائی سے واجب الوصول ہوئی۔میں نے ان کے بیش اصرار پر تجویز کی تھی کہ ان کو ڈولی میں سوار کر کے اور ساتھ ایک آدمی کر کے پہنچایا جاوے مگر پھر معلوم ہوا کہ ایسا سخت بیمار جس کی زندگی کا اعتبار نہیں وہ بموجب قانون ریل والوں کے ریل پر سوار نہیں ہوسکتا اس لئے اُسی وقت میں نے ڈاکٹر محمد اسمعیل خاں صاحب کو ان کی طرف بھیجا ہے تاملائمت سے ان کو سمجھا دیں کہ ایسی بے اعتبار حالت میں ریل پر وہ سوار نہیں ہو سکتے اور بالفعل میں نے دورو پید ان کو بھیج دئے ہیں کہ اپنی ضروریات کے لئے خرچ کریں اور اگر میرے روبرو واقعہ وفات کا ان کو پیش آ گیا تو میں انشاء اللہ القدیر اسی قبرستان میں ان کو دفن کراؤں گا۔باقی سب طرح سے خیریت ہے۔بہتر تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ آپ ضروری کام کے انجام کے بعد زیادہ دیر تک لاہور میں نہ ٹھہریں اور میری طرف سے اور میرے گھر کے لوگوں کی طرف سے آپ کے گھر میں السلام علیکم۔کہہ دیں۔والسلام۔راقم مرزا غلام احمد ۴ را پریل ۱۹۰۶ء ۲۸۴ مرحوم کیا ہی با اخلاص بزرگ تھے کہ وفات سے قبل ہی حضرت اقدس تحریر فرماتے ہیں کہ اگر یہاں فوت ہوئے تو بہشتی مقبرہ میں ان کو دفن کیا جائے گا۔ان کے متعلق پیر سراج الحق صاحب نعمانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ایک شخص ضیعف العمر جواب وہ بہشتی مقبرہ میں مدفون ہے۔اپنی موت سے چند روز پہلے گول کمرہ کے سامنے کچھ دن کے لئے اپنے وطن مالیر کوٹلہ جانے کی اجازت طلب کر رہا تھا۔شیخ غلام احمد صاحب واعظ مولوی محمد علی صاحب، مولوی عبدالکریم صاحب، مرحوم میاں غلام حسین صاحب رہتا سی حال قادیان اور خاکسار اور احباب بھی تھے آپ نے فرمایا اب تم ضیعف ہو گئے اور بیمار بھی ہو۔مت جاؤ زندگی کا اعتبار نہیں۔اس نے کہا تو خدا کا رسول ہے تو سچا رسول ہے تو بے شک خدا کا رسول ہے۔میں تجھ پر ایمان لایا ہوں اور صدق دل سے تجھے خدا کا رسول مانا ہے۔میں تیری نافرمانی اور حکم عدولی کو کفر سمجھتا ہوں۔بار بار یہ کہتا تھا اور دایاں ہاتھ اٹھا کے اور انگلی سے آپ کی طرف اشارہ کر کے بڑے جوش سے کہتا تھا اور آپ اس کی باتوں کو سن کر بار بار ہنستے جاتے تھے اور فرماتے جاتے تھے کہ بس اب آرام کرو اور یہیں رہو جانے کا نام مت لو اس کی آنکھوں سے پانی جاری تھا یہ کہتا ہوا مہمان خانہ کولوٹا کہ اللہ کے رسول کا فرمانا بچشم منظور ہے۔“ ۲۸۵