اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 403 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 403

غرباء پروری 403 مکرم میاں محمد عبد اللہ خاں صاحب ذکر کرتے ہیں۔جس زمانہ میں آپ نے قادیان کی رہائش اختیار کی اس کی حالت بالکل معمولی سی تھی اور مہاجرین کی حالت بہت ہی قابل رحم تھی۔ان کا بیشتر حصہ دو دو تین تین روپے ماہوار پر گزارا کرتا تھا۔حضرت نواب صاحب کا قادیان آنا ان کے لئے نعمت غیر مترقبہ ثابت ہوا۔ہر شادی بیاہ پر بری کا جوڑہ آپ کی طرف سے جاتا تھا۔احباب میں سے ایک کثیر تعداد کی آپ مالی اعانت کرتے رہتے تھے اور پھر اس اعانت کا ذکر کسی سے نہ کرتے تھے۔ہمیں بھی جو کچھ پتہ لگا ہے بالعموم خطوط وغیرہ سے یا اتفاقیہ طور پر یا ان احباب کے ذکر کرنے سے معلوم ہوا ہے۔میاں محمد عبد اللہ خاں صاحب پٹھان ( حال در ولیش) جو کچھ عرصہ ملازم رہے تھے ان کو مکان بنوانے میں امداد دی تھی بہت سے نادار طلبا کی اعانت کرتے رہتے تھے۔اس کا کچھ ذکر مدرسہ تعلیم الاسلام کے تعلق میں گزر چکا ہے ، ابتداء میں جب آپ قادیان آئے تو کثرت سے طلباء اور غرباء کی دعوتیں کرتے رہتے تھے۔آخری بیماری سے آپ قریباً ڈیڑھ سال تک بیمار رہے۔آپ بلاناغہ پانچ روپے روزانہ صدقہ کرتے تھے۔اور یہ علاوہ دیگر صدقات کے تھا جو کہ آپ معمولاً کرتے تھے۔مالیر کوٹلہ کے ایک دوست المی بخش صاحب بیمار ہو گئے اور قادیان سے واپس جانے لگے آپ ان کے اخراجات کے کفیل ہوئے وہ قادیان ہی میں فوت ہوئے اور بہشتی مقبرہ میں مدفون ہوئے ہو میاں محمد عبد اللہ خان صاحب پٹھان بتاتے ہیں کہ مکان کی تعمیر میں امداد کے علاوہ آپ ہمیشہ میری مالی اعانت فرماتے تھے خصوصاً عیدین کے مواقع پر۔اسی طرح دیگر غرباء کی بھی امدا د فرماتے تھے۔میاں الہی بخش صاحب کا نام الحکم جلد ۵ نمبر ۳ ( صفحہ ۱۶ کالم ۳) نمبر ۴ (صفحہ ۱۶ کالم ۱) بابت جنوری ۱۹۰۱ء میں مالیر کوٹلہ کے چندہ دینے والوں میں مرقوم ہے۔ان کے متعلق مکرم میاں محمد عبد الرحمن خاں صاحب بیان کرتے ہیں کہ میاں الہی بخش صاحب خلیفہ کہلاتے تھے نعل بند تھے۔حضرت والد صاحب کے ملازم نہ تھے لیکن ان سے کچھ ماہوار وظیفہ پاتے تھے۔پہلے فوج میں ملازم رہ چکے تھے شاید اس ملازمت کی کچھ پینشن بھی پاتے تھے غالبا ان کے اولاد نہ تھی۔بہت مخلص احمدی تھے ان کی وفات مہمان خانہ میں ہوئی تھی۔ان کے مرض الموت کے متعلق حضرت اقدس کا مکتوب درج ذیل کیا جاتا ہے۔نحمده ونصلى على رسوله الكريم بسم الله الرحمن الرحيم مجی عزیزی اخویم نواب صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔الحمد للہ تادم تحریر خط ملا۔