اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 402 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 402

402 دوسروں کی عفت اور جماعت کی عزت کا خیال مومن کی شان یہ ہے کہ جو اپنے لئے پسند نہیں کرتا دوسروں کے لئے بھی پسند نہیں کرتا۔نواب صاحب کی زندگی کا ایک عجیب واقعہ اس خصوص میں ان کی ڈائری میں ملتا ہے جو انہوں نے فارسی زبان میں لکھا ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو افراد جماعت کے تزکیہ نفس اور ان کے گناہ کی زندگی سے بچانے کے لئے اور سلسلہ کی عظمت کو قائم رکھنے کے لئے کس قدر جوش تھا کاش یہ روح ہر احمدی میں ہو۔دوسری جگہ ہم ذکر کر چکے ہیں کہ خادمات کی عصمت کی حفاظت کے لئے آپ نے کیسا عمدہ انتظام پہرہ وغیرہ کا کر رکھا تھا۔اس اقتباس سے جو ذیل میں درج ہے۔نواب صاحب کے اپنے تزکیہ نفس کا بھی کافی ثبوت ملتا ہے آپ تحریر فرماتے ہیں۔مرضعہ اہلیہ من بچند دفعه آمده بود که صبیہ میانه خود را بکوٹله به برد مگر من از یں جهت دخترش را نه فرستادم که۔۔۔۔۔۔دخترش کم سن است و بالغ نیست و این مانع است اگر به خانہ شوہر برود آنجا هم عصمتش تباه خواهد شد و اگر بخانه مادر خود ماند آبخااز و بدتر است چرا که مادرش نیکو کار نیست و راہم تباه خواهد کرومر از یادہ تر بایں سبب بدخترش همدردی کارنیست بود که او بیعت امام کرده بود در یں جانماز تہجد می خواند و نماز پنجگانہ ہمیشہ بشوق اوا می کرد ترسیدم که اگر بُر و صحبت بد در او اثر کرد موجب خفت جماعت دشمانت اعدا خواهد شد۔پس مادرش را فہمائش کردم و بسیار بند کردم آخر اواز بردن او باز ماند ولیکن دراصل مادرش را هیچ محبت با اطفال خود نیست بلکه آن زن طماع است۔چوں دید که ازیس ماندن دخترش این جا اور ا منفعت خواهد شد۔۔۔۔اورا بگد هشت دخترش خادمه من است و خواهر رضاعی زن من است عصر روپیہ مشاہرہ مے یا بد و دیگر منفعت انعام 66 وغیرہ ہم است - مادرش را هم از و منفعت می رسد “ یہ غوثاں کا ذکر ہے جو کہ مالیر کوٹلہ کے گوجروں کی لڑکی تھی آپ اپنی صاحبزادی کے ہمراہ اسے تعلیم دیتے تھے۔آپ نے اس کی شادی بھائی مددخاں صاحب رضی اللہ عنہ سے کر دی تھی غیر قوم میں شادی ہونے کی وجہ سے اس کے رشتہ داروں کو یہ امر ناگوار گزرا۔نواب صاحب شادی کے بعد بھی اس کی امداد کرتے ہے۔اب وہ بہشتی مقبرہ میں مدفون ہے۔اس کو دینی تعلیم کا علم ۰۲-۱۲- ۸ کی ڈائری سے ہوتا ہے۔