اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 391 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 391

391 میں داخل کیا گیا جو اس وقت شہر میں ہوتا تھا۔ہم تینوں بھائیوں کے لئے گھوڑے اور ایک خادم کے لئے تھا کہ بقیہ حاشیہ : ۲۰ - ہر قسم کے عالموں اور نیک لوگوں کی صحبت حاصل کرو۔ان سے میل بڑھاؤ۔علم کو ہمیشہ -1- سیکھو اور بڑھاؤ۔۲۱ - آج کل کے زندہ دلوں اور جاہلوں کی صحبت سے بھا گو۔۲۲۔غربت کو ذلیل نہ سمجھو۔۲۳- دولت بہت کماؤ مگر دولت ( ز ر ) پرست نہ بنو۔نیکی اور بھلائی کی جستجو میں دل و جان سے رہو انصاف کو اپنا شعار بناؤ۔۲۵- خدا سے بہت پیار کرو اور اسی کو اپنا وسیلہ سمجھو۔اسی پر بھروسہ کرو محض عذاب کے ڈر سے خدا سے نہ ڈرو بلکہ اس سے محبت کرو اور پھر ڈرو۔جس طرح ایک پیارے کی کبیدگی سے انسان ڈرتا ہے۔اتنا پیار ہو کہ تم سمجھو کہ میں وہی ہو گیا۔من تو شدم تو من شدی من تن شدم تو جاں شدی تاکس نہ گوید بعد ازیں من دیگرم تو دیگری - خدا کے مقابلہ میں کسی سے محبت نہ کرو اس سے بڑھ کر کسی سے پیار نہ کرو۔۲۷- خدا وند تعالیٰ کے بعد حضرت رسول کریم محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عاشق بنو۔۲۸۔اس کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے غایت درجہ کی محبت کرو۔۲۹ - دین اسلام اور فطرت ایک چیز ہے اس لئے کوئی دین اس کے سوا اب مقبول نہیں اس کے تمام ارکان وقوع کو ٹھیک سمجھو اور اس کی پوری پابندی کرو۔چھوٹی باتوں میں بھی جرات نہ کرو جو خلاف اسلام ہیں۔قطرہ قطرہ سے دریا ہو جاتا ہے۔۳۱۔جو بات سمجھ میں نہ آئے اس کی پوری تحقیقات کرو جہاں تک ممکن ہوگا میں بھی مددکروں گا۔۳۲۔ہمارا جسم نہایت چھوٹے ذروں سے مرکب ہے جو بجائے خود ایک ایک عالم ہیں۔ایک دوسرے کی کشش سے وہ جڑے ہوئے ہیں۔اگر ان میں کشش نہ ہو تو بکھر جائیں۔ہمارا جسم بھی نہ رہے۔پس مذہب و قوم کی بقاء اسی طرح اتفاق اور کشش پر مبنی ہے اس لئے ہم کو سوائے مسلم کے کسی سے دلی دوستی نہ پیدا کرنی چاہئے۔اور پھر سوائے احمدی اور پھر سوائے مبالع کے کسی سے دلی دوستی اور میل نہ کرنا چاہئے۔احمدیوں سے دکھ بھی پہنچے پھر بھی ان کا ساتھ نہ چھوڑا جائے۔اگر اتفاقا کسی غیر احمدی یا غیر مبائع سے محبت معلوم ہو تو اس کے لئے دعائے ہدایت کر و۔مگر حسن سلوک سے کبھی نہ رکو۔حسن سلوک سب سے کرو۔