اصحاب احمد (جلد 2) — Page 302
302 کے کرتا دھرتا اور لیڈر تھے محسوس کیا کہ ہم نے صحیح قدم نہیں اٹھایا اور اب اس اٹھے ہوئے قدم کو پیچھے ہٹانا بھی مشکل تھا اس لئے انہوں نے ایک مستقل منصوبہ کی بنیاد رکھی کہ خلافت کے اثر ونفوذ کو زائل کیا جائے۔اور دراصل انجمن ہی کو تمام اختیارت کا اہل قرار دیا جائے۔اس مقصد کے لئے جو پروگرام انہوں نے اپنے عمل سے پیش کیا وہ یہ تھا کہ صدرانجمن کے فیصلہ جات کو خلیفہ کے احکام پر حاکم قرار دیا جائے اس کی مثالیں آگے آئیں گی۔وہ حضرت خلیفہ اُسی اول رضی اللہ عنہ کی ذات اور شخصیت پر تو کوئی حملہ نہ کر سکتے تھے۔آپ کا علم۔سلسلہ کے لئے آپ کی بے مثال قربانیاں ایسی نہ تھیں کہ کسی شخص کو بھی کوئی بات متاثر کر سکتی اس لئے اپنے عمل بیعت پر مشکوک طبقہ نے انجمن ہی کے ذریعہ اعتراضات کا منصوبہ سوچا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پیشگوئی عجیب بات یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو آپ کے بعد پیدا ہونے والے فتن سے اللہ تعالیٰ نے آگاہ کر دیا تھا۔آپ کے الہامات اور کشوف کے پڑھنے سے یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے۔نامناسب نہ ہوگا کہ میں ان میں سے بعض کا یہاں ذکر کروں۔چنانچہ حضور فرماتے ہیں: -1 میں نے دیکھا کہ اپنی جماعت کے چند آدمی گشتی کر رہے ہیں۔میں نے کہا آؤ میں تم کو ایک خواب سُنا ؤں مگر وہ نہ آئے۔میں نے کہا کیوں نہیں سنتے۔جو شخص خدا کی باتیں نہیں سنتا وہ دوزخی ہوتا -۲ ۲۳۹ اسی طرح بعض احمدی کہلا کر بد گمانی کی طرف دوڑنے والوں کی نسبت حضور تحریر فرماتے ہیں : و بعض بد قسمت ایسے ہیں کہ شریر لوگوں کی باتوں سے جلد متاثر ہو جاتے ہیں اور بدگمانی کی طرف ایسے دوڑتے ہیں۔جیسے کتامُر دار کی طرف مجھے وقتاً فوقتاً ایسے آدمیوں کا علم بھی دیا جاتا ہے مگر اذن نہیں دیا جاتا کہ ان کو مطلع کروں۔کئی چھوٹے ہیں جو بڑے کئے جائیں گے اور کئی بڑے ہیں جو چھوٹے کئے جائیں گے۔پس مقام خوف ہے۔-٣ ۲۴۰ 66 اسی طرح جماعت میں پھوٹ اور اہل حق کے ساتھ نصرت الہی کی خبر حضور کو ان الفاظ میں دی گئی: ” خدا دو مسلمان فریق میں سے ایک کا ہوگا پس یہ پھوٹ کا ثمرہ ہے انی مع الا فواج آتیک بغته۔انى مع الله الكريم طوفان آیا وہی طوفان شر آئی۔“ مندرجہ بالا الہامات و کشوف میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو آپ کے بعد پیدا ہونے والے فتنہ اور اس کے پیدا کرنے والوں کے متعلق خبر دی گئی تھی اور بعض اکابر کے متعلق بھی اللہ تعالیٰ نے آپ پر rm