اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 303 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 303

303 بعض انکشافات کئے۔ان کی تعبیر و تاویل ہر شخص اپنے خیال کے موافق کر لیتا ہے۔لیکن دیکھنے کے قابل یہ بات ہے کہ واقعات کس کی تائید کرتے ہیں۔بعض اکابر سلسلہ کے متعلق مندرجہ ذیل رویا اور کشوف قابل غور ہیں۔اگر یہ لوگ ایک مخالف خلافت محاذ قائم نہ کرتے تو ہم ان کشوف کا مطلب اور سمجھ سکتے تھے۔لیکن جب انہوں نے الہی نظام کے خلاف ایک عملی منصو بہ قائم کیا تو یہ واقعات ان کی تائید نہیں بلکہ ان کے خلاف ہیں۔چنانچہ مولوی محمد علی صاحب کے متعلق حضور کے رویا سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ پہلے وہ صالح تھے اور نیک ارادہ رکھتے تھے۔اور دوسری رؤیا کے ساتھ ملا کر یہ واضح ہو جاتا ہے کہ بعد ازاں ان پر انقلاب آ کر ان کی مشابہت بشپ سے ہو جانی تھی۔چنانچہ حضور فرماتے ہیں : میں نے دیکھا کہ مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم آ رہے ہیں۔مولوی صاحب مرحوم نے ایک چیز نکال کر مجھے بطور تحفہ دی اور کہا کہ بشپ جو پادریوں افسوس مولوی صاحب اس حالت میں ۵۱-۱۰-۱۳ کو کراچی میں وفات پاگئے اور لاہور جسے یہ لوگ مدینہ قرار دیتے تھے۔وہاں وفات پانے سے بھی اللہ تعالیٰ نے انہیں محروم رکھا۔ان کی وفات پر حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے ایک پرائیویٹ خط مکرم امیر صاحب مقامی قادیان کے نام تحریر کیا جو درج ذیل ہے: مکتوب حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب بنام مکرم امیر صاحب مقامی قادیان۔بسم الله الرّحمن الرحيم نحمده ونصلى على رسوله الكريم وعلى عبده المسيح الموعود مکرمی محترمی مولوی صاحب السلام عليكم ورحمة الله وبركاته اطلاع ملی ہے کہ مولوی محمد علی صاحب ایم۔اے امیر غیر مبائعین کراچی میں وفات پاگئے ہیں۔ان کی عمر ۷۷ سال کے قریب ہوگی۔جنازہ لاہور لایا گیا ہے۔انا للہ وانا اليه راجعون۔افسوس کہ مولوی صاحب کی وفات خلافت کے انکار پر ہوئی اور نبوت کے عقیدہ سے بھی وہ منحرف رہے۔گو ممکن ہے کہ آخری وقت میں دل میں کوئی ندامت پیدا ہوئی ہو۔بہر حال اب ان کا معاملہ خدا کے ساتھ ہے۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ کو ان کے متعلق شروع میں ہی جو الہام ہوا تھا کہ لنمزقنهم پورا ہوا۔کیونکہ غیر مبائعین میں سخت افتراق پیدا ہو چکا ہے بلکہ آخری چند ماہ میں تو کتابوں کے ٹرسٹ کے معاملہ میں یہ افتراق انتہا کو پہنچ گیا تھا۔جس سے ڈر کر مولوی صاحب موصوف کو اپنی وفات سے چند دن پہلے ٹرسٹ تو ڑنا پڑا بلکہ معلوم ہوا ہے کہ مولوی صاحب کی ایک پرائیویٹ تحریر میں یہاں تک ذکر تھا کہ اس تفرقہ نے میری کمر توڑ