اصحاب احمد (جلد 2) — Page 301
301 خلافت اولی میں فتنہ اختلاف حضرت نواب صاحب کے سوانح حیات کا جزو اعظم وہ معرکہ ہے جو تاریخ سلسلہ میں خلافت حقہ کے خلاف فتنہ انگیزی کہلاتا ہے چونکہ حضرت نواب صاحب نے اپنی استطاعت کے موافق اس فتنہ کے مقابلہ اور استیصال اور تمکین خلافت کے لئے صف اول میں کام کیا ہے۔اور اس کے ذکر کے بغیر ان کی کتاب حیات کی تکمیل نہیں ہوسکتی اس لئے میں مجبور ہوں کہ ان حالات کو تفصیل سے بیان کروں اور اس لئے بھی کہ نئی نسل کو حقیقی واقعات سے آگاہ کیا جائے۔میرا مقصد کسی شخص کی نیت پر حملہ کرنے کا نہیں اور نہ میں اسے اپنا حق سمجھتا ہوں۔البتہ میں واقعات کو پیش کرونگا ان کو پڑھ کر ہر شخص صحیح رائے قائم کر سکے گا۔میں واقعات بالاختصار بیان کروں گا۔میں یہاں یہ کہہ جانا ضروری سمجھتا ہوں کہ یہ فتنہ اسوقت کی صدرانجمن کے بعض اکابر سے اُٹھا۔جیسا کہ آگے چل کر معلوم ہو گا۔ابتدا کیوں کر ہوئی؟ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کے بعد اللہ تعالیٰ نے بجر بعض کے عام طور پر جماعت کے قلوب کو اس امر پر جمع کر دیا کہ خلافت راشدہ کو قائم کیا جائے اور سلسلہ کی قیادت اور سیادت حضرت خلیفہ اسیح کی نامزدگی سے ہو جو بذریعہ انتخاب ہو۔چنانچہ جیسا کہ آگے معلوم ہوگا بالاتفاق حضرت مولانا مولوی نورالدین رضی اللہ عنہ کو خلیفہ مسیح اول منتخب کر کے بیعت کر لی گئی۔اور صدر انجمن کی مجلس معتمدین نے عام اعلان بیعت خلافت کر دیا اور خود بھی بیعت کر لی۔مگر اس کے کچھ عرصہ بعد بعض نے جو اس وقت صدرانجمن حمد جو دوست ان حالات و مسائل سے مکمل واقفیت حاصل کرنا چاہیں وہ سلسلہ کے اخبارات کے علاوہ حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کی تقریر منصب خلافت اور کتب برکات خلافت ،حقیقته النبوة، القول الفصل، انوار خلافت - حقیقتہ الامر۔آئینہ صداقت۔اظہار حقیقت اور حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب کی کتاب کشف الاختلاف اور حضرت مولوی محمد اسمعیل صاحب کی کتاب ”اہل پیغام کے بعض خاص کارنا ہے۔“ اور مضمون بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی مندرجہ الحکم جوبلی نمبر بابت دسمبر ۱۹۳۹ء نشان رحمت نشان فضل پسر موعود تصنیفات حضرت پیر منظور محمد صاحب مطالعہ فرمائیں۔حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کے اعلان سے جو الفضل مورخہ ۵۱-۱۰-۲۸ میں اور بعد میں متعدد بار شائع ہوا ہے خلافت کے متعلق نئی پود کو واقفیت حاصل کرنا جس قدر ضروری ہے ظاہر ہے۔