اصحاب احمد (جلد 2) — Page 285
285 ہوں۔میں شیث ہوں۔میں نوح" ہوں۔میں ابراہیم ہوں۔میں اسحاق“ ہوں۔میں اسمعیل ہوں۔میں یعقوب ہوں۔میں یوسف ہوں۔میں موسی ہوں۔میں داؤد ہوں۔میں عیسی“ ہوں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بقیہ حاشیہ: - خرچ کی اجازت دی ہے۔کچھ جان و مال خرچ کریں پس شادی کے متعلق فرماتا ہے اور پہلا اصول بھی قائم کرتا ہے مُحْصَنِيْنَ غَيْرَ مُسْفِحِين - پاکباز ہو کر خواہشات کو مد نظر رکھ کر۔۔۔حصین کہتے ہیں قلعہ کو یعنی قلعہ بند ہو کر۔قلعہ کیوں ہوتا ہے۔اپنے بچاؤ کے لئے پس اپنے قومی اور طاقتوں کو قائم رکھ کر صحت اور عافیت کا لحاظ رکھ کر تمام تعلقات کو قائم کرنا چاہئے۔پھر شیطان کے پنجے سے بھی بچانا چاہئے اور نہ صرف اپنے آپ کو بچانا بلکہ بیوی کو بھی۔اس کی صحت عافیت کا خیال بھی رکھنا۔اس کو بھی شیطان سے بچانا۔پس پہلا اصول یہی ہے کہ حیوانات کی طرح ہر وقت خواہشات کا گرویدہ نہ رہنا چاہئے۔اور پھر حضرت انسان تو حیوانات سے بھی بڑھ گئے ہیں۔قوانین قدرت کو توڑ دیا ہے۔پس قوانین قدرت کا لحاظ رکھنا چاہئے۔لطیف طرز سے اللہ تعالیٰ نے شادی کو ظاہر فرمایا ہے اور اسی سے تعلقات زن و شوئی کے کل شعبوں پر روشنی ڈال دی اور جو ایک کتاب میں بھی بیان نہیں ہو سکتے۔ایک آیت میں بیان کر دئے اور وہ یہ کہ نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ فَاتُوا حَرُ تَكُمْ أَنَّى شِئْتُم عورتیں تمہاری کھیتی ہیں پس اپنی کھیتی میں جس طرح چاہو آؤ اس سے صاف ظاہر ہے کہ کھیتی سے کیا غرض ہے بس یہی کہ اناج پیدا ہو اور اس اناج سے فائدہ اٹھایا جائے پس عورتیں کھیتی ہیں ان سے اولا د لی جائے بس غرض شادی کی اصل اولا د ہے۔پھر یہ کہ تعلقات زن وشوئی کی حد یہاں تک ہونی چاہئے ( کہ ) اولا د ہو۔پس حیض ، رضاعت میں اجتناب لازم ہے حیض کی بابت تو صاف حکم دیا اور تمدن انسانی کی مشکلات کی وجہ سے حمل ورضاعت کے متعلق اس آیت بالا میں لطیف طرز سے بیان کر دیا اور ایک جگہ مدت کا بھی اشارہ فرمایا کہ وَحَمْلُهُ وَفِصَالُهُ ثَلَا ثُونَ شَهْرًا - پس اس حد تک استعمال قومی ہے جہاں تک اولاد حاصل ہو اور بس اور مواقع ایسے ہیں کہ اولاد کی غرض نہ ہو تو اس سے پر ہیز لازم۔قیام صحت و عافیت بھی لازمی امر ہے جیسا کہ اوپر بیان ہوا۔انسان چونکہ متمدن مخلوق ہے اس لئے اس کو بیوی بچوں سے تعلقات بھی لمبے ہوتے ہیں۔اس لئے بیوی کو تسکین کا باعث بتلایا ہے اور اس میں بھی بہت حکمتیں ہیں بیوی سے حسن سلوک کا حکم فرمایا ہے۔پس ان امور کے متعلق مجھ کو پوری طرح لکھنے کا وقت نہیں میں نے ایک رسالہ بنوایا ہے تم کو بھیجتا ہوں اس کو پڑھ لو اور یہ خط اور وہ محفوظ رکھو۔اگر اللہ تعالے نے چاہا اور توفیق اللہ تعالیٰ ( نے ) دی تو میں اپنی طرز پر اس کو مرتب کروں گا بعض جگہ میں نے نشان لگا دئے ہیں ، وہ سر دست واجب العمل با تیں ہیں ان کا لحاظ لازمی ہے M اب میں آخر میں چندا مور اور لکھنا چاہتا ہوں وہ یہ کہ دین کے لحاظ سے یا دنیا کے لحاظ سے جو بڑے ہوں ان