اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 284 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 284

284 اس وحی الہی میں خدا نے میرا نام رسل رکھا کیونکہ جیسا کہ براہین احمدیہ میں لکھا گیا ہے۔خدا تعالیٰ نے مجھے تمام انبیاء علیهم السلام کا مظہر ٹھہرایا ہے اور تمام نبیوں کے نام میری طرف مسنوب کئے ہیں۔میں آدم نیہ حاشیہ: اور جو لوگ جبراً مطیع کئے جاتے ہیں ان کے اخلاق ہمیشہ رذیل ہوتے ہیں حیوانات کو دیکھ لو کہ ان کی فطرت ہی اللہ تعالے انے ایسی بنائی ہے کہ وہ مجبور ہیں کہ اپنی فطرت کے مطابق کام کریں اس لئے وہ ترقی بھی نہیں کر سکے مگر انسان جس کو خداوند تعالے انے گو حیوان بنایا مگر اس میں سیکھنے کا مادہ رکھ دیا اور ایک حد تک آزاد بنا دیا اور جبراً اس سے کام لینا نہ چاہا۔اس لئے وہ ترقی کرتا ہے اور یہاں تک خدا نے اس کو ترقی کا سامان رکھ دیا۔کہ وہ خلیفتہ اللہ بنا۔پس اللہ تعالے چاہتا ہے کہ انسان محبت کے ساتھ اللہ تعالے کی فرماں برداری کرے اور نشاط طبع سے اطاعت گزار ہو اور پھر اس سے بڑھ کر یہ کہ اپنی محبت کا محبط اللہ تعالے کو ہی صرف قرار دے کوئی محبت اللہ تعالے کی محبت پر غالب نہ آئے۔اللہ تعالیٰ ہی محبوب ہو تمام فانی چیزوں سے منہ موڑ لے چنانچہ اللہ تعالیٰ نے امید دلا کر بھی اطاعت کا حکم فرمایا چنانچہ فرماتا ہے کہ میں نے مومنوں کی جان اور مال کو بہشت کے بدلے میں خرید لیا۔اب سمجھ لو کہ غلام کی جان و مال جب پک گئی تو اس کا کیارہ گیا اور پھر اسی لئے حکم بھی دیا۔کہ اگر تم کو اللہ اور اس کے رسول سے تمہارے ماں باپ۔بیٹے ، بیٹی ، بیوی ، رشتہ ، مال و دولت باغات جو تم نے بڑے چاؤ سے لگائے اور مکانات جو بڑے اہتمام سے بنائے اور تجارتیں جن کے گھاٹے کا تم کو خوف ہے۔زیادہ پیارے ( ہیں ) تو پھر اللہ تعالے کے مقابلہ کے لئے تیار ہو جاؤ۔یعنی اللہ تعالیٰ پھر سزا دے گا ان وجوہ سے صاف ظاہر ہے کہ محض اللہ تعالیٰ سے ہی محبت ہو اور اس بڑھی ہوئی محبت سے اللہ تعالیٰ کی فرماں برداری انسان کرے۔ہاں دوسری چیزوں سے اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت محبت سلوک نیکی کرے اور یہ سمجھ کر کہ محبوب کی چیزیں ہیں۔لوگ غلطی سے شادی بیاہ کے تعلقات کو محبت کی بناء پر کرتے ہیں۔حالانکہ اسلام میں محبت محض اللہ تعالیٰ کے لئے وقف ہے کیونکہ انسان دل کے ہاتھوں مجبور ہے جب کسی سے محبت بڑھ جاتی ہے پھر دین وایمان جان و مال سب اس پر قربان کر دیتا ہے اور بتوں کو سجدہ کرتا ہے اس لئے اللہ تعالے نے دل کو اپنا مہبط بنایا اور غیر اللہ سے لگانے سے ہٹایا تا ہم اسی محبوب حقیقی پر دین و ایمان و جان و مال فدا کر یں بیوی بچوں سے حسن سلوک کریں مگر اسی قدر جس قدر اللہ تعالے انے اپنے فضل سے اجازت دے دی۔پس محبت کی بناء پر شادی نہ ہونی چاہئے۔دل کے ہاتھوں غیر اللہ کو کعبہ نہ بنائیں اس لئے اللہ تعالے انے بعض قوانین باندھ دئے تا ہم اللہ تعالیٰ کو جب جان اور مال بیچ چکے ہیں اور اس میں سے اس نے اپنے فضل (سے) باوجو دخرید کے