اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 252 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 252

252 یوں ہوا کہ دوسری بیوی کی وفات کے بعد حضرت خلیفہ اول کو اور خود حضور اقدس کو بے حد خیال تھا کہ نواب صاحب کی اور شادی جلد ہو جائے اور خود نواب صاحب کو اپنی بیٹی بوز نیب صاحبہ کی وجہ سے بہت ہی فکر تھا کہ قریب بہ بلوغت لڑکی تنہا ہے۔اس قسم کی کسی بات پر جو اظہار فکر کیا تو یہ بات کسی نے حضرت مسیح موعود کو پہنچائی۔حضرت کو خود ہی ان کا بہت خیال تھا۔اور اکثر ذکر بہت فکر اور خیال کے ساتھ فرماتے اور یہ مجھے بھی یاد ہے۔مگر اس دن کے ذکر پر حضرت اقدس کو خاص طور پر بوزنیب بیگم صاحبہ کے معاملہ کی جانب توجہ ہوئی اور چھوٹے بھائی مرزا شریف احمد صاحب کا پیام دیا۔اس رشتہ کے لئے نواب صاحب کی قربانی اس رشتہ کی تحریک کو نواب صاحب نے قبول کر لیا۔دوست شاید خیال کریں کہ یہ حلوائے شیر میں تھا۔اس میں کوئی ابتلا کا سامان نہ ہوا ہو گا۔نہیں بلکہ مرد مومن کو عمر بھر مختلف انواع واقسام کے ابتلا پیش آتے ہیں۔جن سے اللہ تعالے اپنے بندے کا اخلاص ظاہر کرتا اور اس کی قوت ایمانیہ میں ترقی بخشتا ہے۔بے شک یہ رشتہ تھا نعمت غیر مترقبہ لیکن ظاہری ریاست کے فخر میں اور روحانی بصیرت سے محرومی کے باعث نواب صاحب کے اقارب نے اسے نا پسند کیا۔لیکن نواب صاحب نے جرأت ایمانی اور شجاعت سے کام لیتے ہوئے ان کی بات کو پائے استحقار سے ٹھکرا دیا۔چنانچہ اس بارے میں مجھے مفتی محمد صادق صاحب تحریر فرماتے ہیں: ” جب حضرت نواب صاحب کی صاحبزادی زینب بیگم کے نکاح کی تجویز حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب کے ساتھ قرار پائی تو نواب صاحب کے بھائی اپنے قومی خیالات کی وجہ سے اس رشتہ کی مخالفت کرنے کے لئے قادیان میں آئے اور نواب صاحب کو اس کام سے روکا۔مگر انہوں نے جواب دیا کہ جب میں ایک شخص کو مسیح موعود مان چکا ہوں تو آپ خیال کرو کہ میری پوزیشن کیا ہے اور میں ان کو رشتہ دینے سے کیونکر انکار کر سکتا ہوں چنانچہ وہ بھائی ناراض ہو کر چلے گئے اور حضرت نواب صاحب نے اس بارہ میں ان کی کوئی بات نہ مانی اس روایت کی تصدیق سیدہ نواب مبارکہ صاحبہ کے بیان سے بھی ہوتی ہے فرماتی ہیں: نواب صاحب کو زینب بیگم صاحبہ سے بہت محبت تھی اور اب تک چھوٹے بچوں میں سے زیادہ تر ان ہی کی بچپن کی باتیں بڑی محبت سے سنایا کرتے تھے۔نواب صاحب کے تمام عزیز لڑکی کی شادی یہاں کر دینے سے بے حد ناراض