اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 194 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 194

194 عملاً والد کی وفات کی وجہ سے سب بہن بھائی نواب صاحب کے زیر تربیت تھے۔اس وجہ سے وہ نواب صاحب کے زیر اثر تھیں اور بہت مطیع رہیں۔شادی سے سکون قلب یه شادی با برکت ثابت ہوئی اور اس سے نواب صاحب کا غم غلط ہوا۔آپ کو ان سے بہت محبت تھی اور فرماتے تھے کہ میرے ہر حکم کی بلا چون و چرا تعمیل کرتی تھیں اور میرے دینی عزائم اور ارادوں میں کبھی حارج نہیں ہوئیں۔نیز گوان کے بطن سے کوئی اولاد نہیں ہوئی لیکن اپنی سوتیلی اولاد سے بہترین سلوک کرتی تھیں جس کا اولا دکو بھی احساس ہے چنانچہ اس کا علم نواب صاحب کے ایک مکتوب سے بھی ہوتا ہے جو آپ نے اپنے ایک بھائی کو ایک ایسے صدمہ کے موقعہ پر رقم فرمایا تھا۔اس مکتوب سے نواب صاحب کی عفت کے اعلی معیار اور اس خصوص میں اقارب کی زبوں حالی بھی مترشح ہوتی ہے۔امراء کے طبقہ سے تعلق رکھتے ہوئے پھر ایسے امور سے نفرت یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل تھا۔یہ مکتوب ذیل میں درج کیا جاتا ہے: بسم الله الرحمن الرحيم دارالامان قادیان ۵/جنوری ۱۹۰۲ء برادر عزیزم سلمکم اللہ تعالی۔السلام علیکم۔عرصہ سے آپ کی حالت پر غور کرتا رہا ہوں مگر مجھ کو کوئی پیرایہ نہیں ملا سوجھتا تھا کہ کس پیرایہ اور تمہید سے آپ کو لکھوں، اس لئے اب تک کوئی خط نہ لکھ سکا۔اب بھی ایک ہفتہ سے اسی سوچ بچار میں تھا۔میں نے بڑے غور کے بعد آج تو کل علی اللہ آپ کو یہ خط لکھنے کا ارادہ کیا۔آپ کی غمگین حالت پر جب غور کرتا ہوں تو عجیب اثر مجھ پر ہوتا ہے جو موقعہ آپ کو پیش آیا ہے وہی موقعہ تقریباً تین سال ہوئے مجھ کو پیش آیا تھا۔گو اس غم کا اندازہ آپ اُس وقت نہ کر سکتے ہوں گے مگر اب آپ بخوبی کر سکتے ہیں کہ بیوی خاوند کے کیا تعلقات ہوتے ہیں۔اور اس کی علیحدگی کیسی غمناک ہوتی ہے مگر کیا وجہ کہ آپ کو اس قد راور مجھ پر بظاہر کوئی صدمہ نہ معلوم ہوا اس کی بڑی وجہ جب میں غور کرتا ہوں یہ ہے کہ آپ کو (آپ معاف فرمائیں ) مذہب اسلام سے بے خبری ہے جبکہ آپ کسی مذہب کے بھی پابند نہیں۔میں اس لئے یہ جملہ کہتا ہوں کہ مان لینا کسی چیز کا کافی نہیں جب تک اس کا یقین نہ ہو اور پھر اس پر عمل نہ ہو۔مثلاً اگر کوئی یہ تو