اصحاب احمد (جلد 2) — Page 193
193 ہوئے آپ نے اپنی خالہ کو راضی کر کے اس صدمہ کے پندرہ دن بعد ہی مرحومہ کی چھوٹی بہن محترمہ امتہ الحمید بیگم صاحبہ سے (جن کا اصلی نام حمید النساء بیگم تھا ) شادی کر لی۔مکرم میاں محمد عبد الرحمن صاحب بیان کرتے ہیں کہ یہ نکاح حضرت مولوی نورالدین صاحب نے پڑھا تھا اور اس تقریب پر حضرت مولوی عبد الکریم صاحب اور مولوی سید محمد احسن صاحب بھی مالیر کوٹلہ آئے تھے۔موصوفہ اس وقت بارہ سال کی کم سن لڑکی تھیں اور بقیہ حاشیہ: - ہوتے ہیں لیکن میاں بیوی کا علاقہ ایک الگ علاقہ ہے جس کے درمیان اسرار ہوتے ہیں۔بیوی میاں ایک ہی بدن اور ایک ہی وجود ہو جاتے ہیں۔ان کو صد ہا مرتبہ اتفاق ہوتا ہے کہ وہ ایک ہی جگہ سوتے ہیں۔وہ ایک دوسرے کا عضو ہو جاتے ہیں۔بسا اوقات ان میں ایک عشق کی سی محبت پیدا ہو جاتی ہے۔اس محبت میں با ہم انس پکڑنے کے زمانہ کو یاد کر کے کون سا دل ہے جو پُر آب نہیں ہو سکتا۔یہی وہ تعلق ہے جو چند ہفتہ باہر رہ کر آخر فی الفور یاد آتا ہے۔ایسے تعلق کا خدا تعالیٰ نے بار بار ذکر کیا کہ باہم محبت اور انس نہ کرنے کا یہی تعلق ہے۔بسا اوقات اس تعلق کی برکت سے دنیوی تلخیاں فراموش ہو جاتی ہیں۔یہاں تک کہ انبیاء علیہم السلام بھی اس تعلق کے محتاج تھے۔جب سرور کائنات صلے اللہ علیہ وسلم بہت ہی مسلمین ہوتے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا کی ران پر ہاتھ مارتے تھے اور فرماتے تھے کہ اَرِحُنَايَا عَائِشَہ یعنے یا عائشہ ہمیں خوش کر کہ ہم اس وقت غمگین ہیں۔اس سے ثابت ہے کہ اپنی پیاری بیوی یار موافق انہیں عزیز ہی ہے جو اولاد کی ہمدردی میں شریک غالب اور غم کو دور کرنے والی اور خانہ داری کے معاملات کی متولی ہوتی ہے جب وہ یک دفعہ دنیا سے گذر جاوے تو کیسا صدمہ ہے اور کیسی تنہائی کی تاریکی چاروں طرف نظر آتی اور گھر ڈراؤ نا معلوم ہوتا ہے اور دل ٹکڑے ٹکڑے ہوتا ہے۔سواس الہام میں خدا تعالیٰ نے یہی یاد دلایا ہے کہ اس صدمہ سے دنیا میں قدم آگے رکھو۔نماز کے پابند اور سچے مسلمان بنو۔اگر ایسا کرو گے تو خدا جلد اس کا عوض دیگا اور غم کو بھلا دے گاوہ ہر یک بات پر قادر ہے۔یہ الہام تھا اور پیغام تھا۔اس کے بعد آپ تازہ نمونہ دینداری کا دکھلا ئیں۔خدا بر حق ہے اور اس کے حکم بر حق۔تقویٰ سے غموں کو دور کر دیتا ہے۔* * والسلام خاکسار۔مرزا غلام احمد از قادیان ۲۲ / نومبر ۱۶۹۸ مکتوب میں ” نہ کرنے بجائے کپڑنے‘ درج ہے۔جو صحیح معلوم ہوتا ہے( مولف) 66 مکتوبات میں پیارا رفیق اور انہیں عزیز ہے مرقوم ہے (مؤلف) مکتوبات میں دین درج ہے اور یہی ہونا چاہئے۔