اصحاب احمد (جلد 2) — Page 195
195 اہلیہ ثانی کی وفات محترمہ موصوفہ نواب صاحب کے ہمراہ جب وہ ۱۹۰۱ء میں ہجرت کر کے قادیان چلے آئے ساتھ ہی بقیہ حاشیہ: - مانتا ہے کہ آفتاب ہے مگر اس نے کبھی اس کی شکل نہیں دیکھی یا کم از کم اس کے فوائد سے فائدہ نہیں اٹھایا اور ایک اندھیری کوٹھڑی میں بیٹھا ہوا مانتا ہے کہ آفتاب ہے اور اس کے فوائد ہیں اور اس کی روشنی سے فائدہ نہیں اٹھاتا۔پس ایسے کا ماننا کچھ مفید نہیں ہوسکتا دوسرا شخص مانتا ہے کہ آفتاب ہے اور اس میں روشنی اور فائدے ہیں وہ آفتاب کو دیکھتا اور پھر اس روشنی سے فائدہ اٹھاتا۔طرح طرح کے رنگ دیکھتا مقسم قسم کی چیزیں دیکھتا اور اس روشنی سے اپنے ہزاروں کا روبار کرتا اس کی کشش اور تعلقات سیارگان کا مطالعہ کرتا۔اور زمین کی گردش سالا نہ محوری سے دن اور رات مہ و سال کا حساب لگا تا اور پھر زراعت وغیرہ میں روشنی سے کام لیتا (ہے) چنانچہ اب سنا ہے کہ امریکہ میں شیشوں کے ذریعہ آفتاب کی حرارت سے کلوں کے چلانے کا کام لیا جانا ایجاد ہوا ہے اور ارادہ ہے کہ اس ذریعے سے ریلیں اور کیس چلائی جاویں پس اس دوسرے شخص اور پہلے شخص میں کتنا فرق ہے یہ کامیاب اور وہ محروم۔پس اس طرح خدا کومانن مگر اس کو ہر چیز پر قادر نہ ماننا اور اس کی صفات پر ایمان نہ لانا۔گو آفتاب کو ماننا اور اس کی روشنی اور حرارت سے انکار کرنا ہے اور اس طرح اصلی چیز سے انکار ہے ، اور خداوند تعالیٰ کے احکامات پر عمل نہ کرنا اس سے فائدہ نہ اٹھانا ہے۔کیا وہ غلام جو اپنے آقا کا آقا ہونا تو مانتا ہے۔مگر اس کے اختیارت سے ہی انکاری ہے اور اس کے احکامات کو نہیں مانتا کیا ایسا ملازم اس قابل ہے کہ آقا سے کوئی فائدہ اٹھائے ، پس اللہ تعالیٰ کی ایک بے حس و حرکت و بے اختیار ہستی مانی نہ ماننے کے برابر ہے۔بلکہ خود نہ ماننا ہے۔اسی طرح کسی مذہب میں ہونا اور اس سے الگ رہنا ٹھیک نہیں بلکہ خطرناک ہے۔ہاں اگر ایک مذہب بعد تحقیقات خداوند تعالیٰ کی طرف سے ثابت ہو اس کو قبول کیا جاوے اور پھر اس کی پیروی پوری طرح سے کرنی چاہئے لیکن کسی ہی مذہب سے بھی تعلق نہ رکھنا اور اس کے احکامات کی تعمیل نہ کرنی نہایت ہی خطرناک ہے۔آخر ہم نے مرنا ہے جس طرح پہلے لوگ ہم سے مرچکے پھر خدا وند تعالے کے سامنے جانا ہے۔مبارک وہ شخص جو وہاں جا کر شرمندہ نہ ہو۔خلاصہ کلام یہ ہے کہ آپ کو مذہب سے تعلق نہیں اور چونکہ مجھے ( گو میں سخت گنہ گار ہوں مگر ) مذہب سے تعلق تھا۔تو خداوند تعالے نے میرے کئی سامان کر دئے کہ مجھ کو اپنی بیوی کا مرنا زیادہ رنج کا موجب نہ ہوا (۱) یہ بات تھی کہ خداوند تعالے نے ان کی صحت ہی کی حالت میں میرے دل میں یہاں تک ڈال دیا کہ مجھ کو یقین بے اختیاری ہو گیا تھا کہ اس دفعہ یہ زندہ نہ رہیں گی اور اس