اصحاب احمد (جلد 2) — Page 163
163 بھی چھوڑتا ہے اور طرح طرح کی مکاریوں سے ایک شیطان بن جاتا ہے اس عیال کے لئے تو بدی کا بیج ہوتا ہے اور ان کو تباہ کرتا ہے اس لئے کہ خدا تیری پناہ میں نہیں کیونکہ تو پارسا نہیں۔خدا تیرے دل کی جڑ کو دیکھ رہا ہے سو تو بے وقت مرے گا اور عیال کو تباہی میں ڈالے گا۔لیکن وہ جو خدا کی طرف جھکا ہوا ہے اس کی خوش قسمتی سے اس کے زن و فرزند کو بھی حصہ ملے گا اور اس کے مرنے کے بعد وہ بھی تباہ نہیں ہوں گے۔جو لوگ مجھ سے سچا تعلق رکھتے ہیں وہ اگر چہ ہزار کوس پر بھی ہیں تا ہم ہمیشہ مجھے لکھتے رہتے ہیں اور دعائیں کرتے رہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ انہیں موقعہ دے تا وہ برکات صحبت حاصل کریں مگر افسوس کہ بعض ایسے ہیں کہ میں دیکھتا ہوں کہ قطع نظر ملاقات کے سالہا سال گزر جاتے ہیں اور ایک کارڈ بھی ان کی طرف سے نہیں آتا اس سے میں سمجھتا ہوں کہ ان کے دل مر گئے ہیں اور ان کے باطن کے چہرہ پر کوئی داغ جذام ہے میں تو بہت دعا کرتا ہوں کہ میری سب جماعت ان لوگوں میں ہو جائے جو خدا تعالیٰ سے ڈرتے ہیں اور نماز پر قائم رہتے ہیں اور رات کو اٹھ کر زمین پر گرتے ہیں اور روتے ہیں اور خدا کے فرائض کو ضائع نہیں کرتے اور بخیل اور ممسک اور غافل اور دنیا کے کیڑے نہیں ہیں اور میں امید رکھتا ہوں کہ یہ میری دعائیں خدا تعالے قبول کرے گا اور مجھے دکھائے گا کہ اپنے پیچھے میں ایسے لوگوں کو چھوڑتا ہوں۔لیکن وہ لوگ جن کی آنکھیں زنا کرتی ہیں اور جن کے دل پاخانہ سے بدتر ہیں اور جن کو مرنا ہر گز یاد نہیں ہے میں اور میرا خدا ان سے بیزار ہیں۔میں بہت خوش ہوں گا اگر ایسے لوگ اس پیوند کو قطع کر لیں۔کیونکہ خدا اس جماعت کو ایک ایسی قوم بنانا چاہتا ہے جس کے نمونے سے لوگوں کو خدا یاد آوے اور جو تقویٰ اور طہارت کے اول درجہ پر قائم ہوں اور جنھوں نے در حقیقت دین کو دنیا پر مقدم رکھ لیا ہو لیکن وہ مفسد لوگ جو میرے ہاتھ کے نیچے ہاتھ رکھ کر اور یہ کہ کر کہ ہم نے دین کو دنیا پر مقدم کیا پھر وہ اپنے گھروں میں جا کر ایسے مفاسد میں مشغول ہو جاتے ہیں کہ صرف دنیا ہی دنیا ان کے دلوں میں ہوتی ہے نہ ان کی نظر پاک ہے اور نہ ان کا دل پاک ہے اور نہ ان کے ہاتھوں سے کوئی نیکی ہوتی ہے اور نہ ان کے پیر کسی نیک کام کے لئے حرکت کرتے ہیں اور وہ اس چوہے کی طرح ہیں جو تاریکی میں ہی پرورش پاتا ہے اور اسی میں رہتا اور اسی میں مرتا ہے۔وہ آسمان پر ہمارے سلسلہ سے کاٹے گئے ہیں وہ عبث کہتے ہیں کہ ہم اس جماعت میں داخل ہیں کیونکہ آسمان پر وہ داخل نہیں سمجھے جاتے جو شخص میری اس وصیت کو نہیں مانتا کہ در حقیقت دین کو دنیا پر مقدم کرے اور در حقیقت ایک پاک انقلاب اس کی ہستی پر آ جائے اور درحقیقت وہ پاک دل اور پاک ارادہ ہو جائے اور پلیدی اور حرامکاری کا تمام چولہ اپنے بدن پر سے پھینک دے اور نوع انسان کا ہمد در اور خدا کا سچا تابعدار اور اپنی تمام خود داری کو الوداع کہہ کر میرے پیچھے ہولے میں اس شخص کو اس کتے سے مشابہت دیتا ہوں جو ایسی جگہ سے الگ نہیں ہوتا جہاں مردار پھینکا جاتا ہے اور جہاں