اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 162 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 162

162 اور میں نے کہا کہ اس شاخ کو زمین میں دوبارہ نصب کرد و تا وہ بڑھے اور پھولے۔سو میں نے اس کی یہی تعبیر کی کہ خدا تعالیٰ بہت سے ان کے قائم مقام پیدا کر دیگا۔سو میں یقین رکھتا ہوں کہ کسی وقت میرے اس کشف کی تعبیر ظاہر ہو جاو گی مگر ابھی تک یہ حال ہے کہ اگر میں ایک تھوڑی سی بات بھی اس سلسلہ کے قائم رکھنے کے لیے جماعت کے آگے پیش کرتا ہوں تو ساتھ ہی میرے دل میں خیال آتا ہے کہ مبادا اس بات سے کسی کو ابتلاء پیش نہ آوے۔اب ایک ضروری بات جو اپنی جماعت کے آگے پیش کرنا چاہتا ہوں یہ ہے کہ میں دیکھتا ہوں کہ لنگر خانہ کے لئے جس قدر میری جماعت وقتا فو قامدد کرتی رہتی ہے وہ قابل تعریف ہے۔ہاں اس مدد میں پنچاب نے بہت حصہ لیا ہوا ہے اس کا سبب یہ ہے کہ پنجاب کے لوگ اکثر میرے پاس آتے جاتے ہیں اور اگر دلوں میں غفلت کی وجہ سے کوئی سختی آ جائے تو صحبت اور پے در پے ملاقات کے اثر سے وہ بختی بہت جلد دور ہوتی رہتی ہے اس لئے پنجاب کے لوگ خاص کر بعض افراد ان کے محبت اور صدق اور اخلاص میں ترقی کرتے جاتے ہیں اور اسی وجہ سے ہر ایک ضرورت کے وقت وہ بڑی سرگرمی دکھلاتے ہیں اور سچی اطاعت کے انثاران سے ظاہر ہوتے ہیں۔اور یہ ملک دوسرے ملکوں سے نسبتاً کچھ نرم دل بھی ہے۔بائیں ہمہ انصاف سے دور ہوگا اگر میں تمام دور کے مریدوں کو ایسے ہی سمجھ لوں کہ وہ ابھی اخلاص اور سرگرمی سے کچھ حصہ نہیں رکھتے کیونکہ صاحبزادہ مولوی عبد اللطیف جس نے جان شاری کا یہ نمونہ دکھلایا وہ بھی تو دور کی زمین کا رہنے والا تھا جس کے صدق اور وفا اور اخلاص اور استقامت کے آگے پنجاب کے بڑے بڑے مخلصوں کو بھی شرمندہ ہونا پڑتا ہے کہ وہ ایک شخص تھا کہ ہم سب سے پیچھے آیا اور سب سے آگے بڑھ گیا۔اسی طرح بعض دور دراز کے مخلص بڑی بڑی خدمت مالی کر چکے ہیں اور ان کے صدق و وفا میں کبھی فتور نہ آیا۔جیسا کہ اخویم سیٹھ عبدالرحمن صاحب تاجر مدراس اور چند ایسے اور دوست لیکن کثرت تعداد کے لحاظ سے پنجاب کو مقدم رکھا گیا ہے کیونکہ پنجاب میں ہر ایک طبقہ کے آدمی خدمت دینی سے بہت حصہ لیتے ہیں اور دور کے اکثر لوگ اگر چہ ہمارے سلسلہ میں داخل تو ہیں مگر بوجہ اس کے کہ ان کو صحبت کم نصیب ہوتی ہے ان کے دل بکلی دنیا کے گند سے صاف نہیں ہیں۔امر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یا تو آخر کار وہ گند سے صاف ہو جائیں گے اور یا خدا تعالیٰ ان کو اس پاک سلسلہ سے کاٹ دیگا اور ایک مردار کی طرح مریں گے۔بڑی غلطی انسان کی دنیا پرستی ہے۔یہ بد بخت اور منحوس دنیا کبھی خوف دلانے اور کبھی امید دینے سے اکثر لوگوں کو اپنے دام میں لے لیتی ہے اور یہ اسی میں مرتے ہیں نادان کہتا ہے کہ کیا ہم دنیا کو چھوڑ دیں اور یہ غلطی انسان کو نہیں چھوڑتی جب تک کہ اس کو بے ایمان کر کے ہلاک نہ کرے۔اے نادان کون کہتا ہے کہ تو اسباب کی رعایت چھوڑ دے مگر دل کو دنیا اور دنیا کے فریبوں سے الگ کرلور نہ تو ہلاک شدہ ہے اور جس عیال کے لئے تو حد سے زیادہ بڑھتا جاتا ہے یہاں تک کہ خدا کے فرائض کو