اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 164 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 164

164 گلے سڑے مردوں کی لاشیں ہوتی ہیں۔کیا میں اس بات کا محتاج ہوں کہ وہ لوگ زبان سے میرے ساتھ ہوں اور اس طرح پر دیکھنے کے لئے ایک جماعت ہو؟ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اگر تمام لوگ مجھے چھوڑ دیں اور ایک بھی میرے ساتھ نہ رہے تو میرا خدا میرے لئے ایک اور قوم پیدا کرے گا جو صدق اور وفا میں ان سے بہتر ہوگی۔یہ آسمانی کشش کام کر رہی ہے جو نیک دل لوگ میری طرف ڈوڑتے ہیں کوئی نہیں جو آسمانی کشش کو روک سکے بعض لوگ خدا سے زیادہ اپنے مکر و فریب پر بھروسہ رکھتے ہیں۔شاید ان کے دلوں میں یہ بات پوشیدہ ہو کہ نبوتیں اور رسالتیں سب انسانی مکر ہیں اور اتفاقی طور پر شہر تیں اور قبولیتیں ہو جاتی ہیں اس خیال سے کوئی خیال پلید تر نہیں اور ایسے انسان کو اس خدا پر ایمان نہیں جس کے ارادے کے بغیر ایک پتہ بھی گر نہیں سکتا۔لعنتی ہیں ایسے دل اور ملعون ہیں ایسی طبیعتیں۔خدا ان کو ذلت سے مارے گا کیوں کہ وہ خدا کے کارخانے کے دشمن ہیں ایسے لوگ در حقیقت دہریہ اور خبیث باطن ہوتے ہیں وہ جہنمی زندگی کے دن گزارتے ہیں اور مرنے کے بعد بجر جہنم کی آگ کے ان کے حصہ میں کچھ نہیں۔اب مختصر کلام یہ ہے کہ علاوہ ہنگر خانہ اور میگزین کے جو انگریزی اور اردو میں نکلتا ہے جس کے لئے اکثر دوستوں نے سرگرمی ظاہر کی ہے ایک مدرسہ بھی قادیان میں کھولا گیا ہے اس سے یہ فائدہ ہے کہ نو عمر بچے ایک طرف تو تعلیم پاتے ہیں اور دوسری طرف ہمارے سلسلہ کے اصولوں سے واقفیت حاصل کرتے جاتے ہیں اس طرح پر بہت آسانی سے ایک جماعت طیار ہو جاتی ہے بلکہ بسا اوقات ان کے ماں باپ بھی اس سلسلہ میں داخل ہو جاتے ہیں لیکن ان دنوں میں ہمارا یہ مدرسہ بڑی مشکلات میں پڑا ہوا ہے باوجود یکہ محبی عزیز ی اخویم نواب محمد علی خاں صاحب رئیس مالیر کوٹلہ اپنے پاس سے روپیہ ماہوار دیگر اس مدرسہ کی مدد کرتے ہیں مگر پھر بھی استادوں کی تنخواہیں ماہ بماہ ادا نہیں ہوسکتیں صد بار روپیہ قرضہ سر پر رہتا ہے۔علاوہ اس کے مدرسہ کے متعلق کئی عمارتیں ضروری ہیں جو اب تک تیار نہیں ہو سکیں یہ تم علاوہ اور غموں کے میری جان کو کھا رہا ہے۔اس کی بابت میں نے بہت سوچا کہ کیا کروں آخر یہ تدبیر میرے خیال میں آئی کہ میں اس وقت اپنی جماعت کے مخلصوں کو بڑے زور کے ساتھ اس بات کی طرف توجہ دلاؤں کہ اگر وہ اس بات پر قادر ہوں کہ پوری توجہ سے اس مدرسہ کے لئے کوئی ماہانہ چندہ مقرر کریں تو چاہئے کہ ہر ایک ان میں سے مستحکم عہد کے ساتھ کچھ نہ کچھ مقرر کرے جس کے لئے وہ ہر گز تخلف نہ کرے مگر کسی مجبوری سے جو قضا و قدر سے واقع ہو اور جو صاحب ایسانہ کرسکیں ان کے لئے بالضرورت یہ تجویز سوچی گئی کہ جو کچھ وہ لنگر خانہ کے لئے بھیجتے ہیں اس کا چہارم حصہ براہِ راست مدرسہ کے لئے نواب صاحب موصوف کے نام بھیج دیں لنگر خانہ میں شامل کر کے ہر گز نہ بھیجیں بلکہ علیحدہ منی آرڈرکرا کر بھیجیں۔اگر چہ لنگر خانہ کا فکر ہر روز مجھے کرنا پڑتا ہے اور اس کا غم براہ راست میری طرف آتا