اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 154 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 154

154 ہوں گے جو ایک روپیہ ماہوار چندہ دیتے ہوں اور مدرسہ سے خاص دل چسپی رکھتے ہوں یا جو کوئی عمدہ تجویز سمجھا ئیں جس سے مدرسہ کو مالی یا علمی معتد بہ فائدہ حاصل ہو۔-٣ حامی یعنی جو کم از کم ماہوار چندہ دیتے ہوں۔(۸) انتظام مدرسه بموجب حکم حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام مرقومه بالا تاریخ موصوله ۲ دسمبر ۱۹۰۱ء سے خانصاحب محمد علی خاں صاحب ڈائرکٹر کے سپرد ہوا۔بمنشاء حکم ہذا خانصاحب کو اختیار ہے کہ بطور خود یا بذریعہ کسی کمیٹی کے انتظام مدرسہ یا بذریعہ چند اصحاب کے ان کو جدا کام سپر د کر کے اپنی نگرانی میں انتظام مدرسہ کرائیں اور تمام ممبران فرقہ احمد یہ پابند رہیں کہ جن سے انتظام مدرسہ وغیرہ میں خاں صاحب مدد لینا چاہیں وہ بلا عذر اس امر میں مدد دیں یا جو کام ان کے سپر د کیا جائے انجام دیں۔(۹) ٹرسٹیاں کو سال بھر میں ایک دفعہ دارالامان میں جمع ہونا ہوگا ان کے مطابق رپورٹ مدرسہ پڑھ کر سنائی جایا کرے گئی اور ٹرسٹیاں مدرسہ کے لئے تعلیم اور دیگر ضروریات مدرسہ مثل تعمیر وغیرہ کے لئے فنڈ مہیا کرنے کے واسطے تدابیر سوچیں گے اور اس پر بحث کریں گے اور جو ریزولیوشن اس غرض سے پاس کریں گے ان کو عمل میں لا کر فنڈ جمع کر کے مدرسہ کو دیں گے اور اسی طرح اور مفید مدرسہ ریزولیوشن پاس کر کے ان پر عملدرآمد کریں گے اور جو ریزولیوشن مفید متعلق تعلیم انتظام مدرسہ پاس کریں گے اس کی ڈائرکٹر کو ( اطلاع) دیں گے۔اور حسب مصلحت وقت جو ریزولیوشن عملاً مفید سمجھے جائیں گے ان کے بموجب ڈائر کٹر صاحب اصلاح کریں گے۔“ چندہ کی تقسیم حضرت اقدس کے نام اور حضرت نواب صاحب کے نام ۱۱۷ انبیاء پر ابتداء میں اکثر غریب طبقہ کے لوگ ایمان لاتے ہیں اور دنیا پر یہ ظاہر ہو جاتا ہے کہ عزت و جاہ اور مال و منال کے زور پر الہی سلسلہ کو ترقی نہیں ہوئی۔ابتدائے اسلام کے وقت ہم دیکھتے ہیں کہ ایک طرف قیصر و کسری کی پُر شوکت سلطنتوں کے مسلمانوں کے قبضہ میں آنے کی خبر دی جارہی تھی لیکن اکثر ایمان لانے والے حد درجہ غریب تھے۔حتی کہ چندہ کے لئے ایک مٹھی بھر جو ، یا کھجور دینے کی بھی انہیں بمشکل توفیق ہوتی تھی حضرت ابو ہریرہ جیسے بہت سے صحابہ پر فاقوں پر فاقہ آتا تھا۔اسی طرح جماعت احمدیہ ابھی بالکل طفولیت میں تھی۔کفر میدان میں ہر چہار سودند نا تا پھرتا تھا۔سلسلہ کے؟ ہر ایک کام کے لئے اور اسی طرح مدرسہ کے لئے روپے کی ضرورت تھی جس کے لئے بار بار تحریک کی جاتی تھی چنانچہ اب یہ اعلان کیا گیا کہ مدرسہ تعلیم الاسلام کے متعلق ہر قسم کا روپیہ حضرت نواب صاحب کے نام آنا چاہئے اور لنگر خانہ کے متعلق کل روپیہ حضرت اقدس کے نام حضرت اقدس نے بھی مختلف مدات کے چندوں کی اہمیت کا ذکر کر کے ان کی تحریک کرتے ہوئے فرمایا: