اصحاب احمد (جلد 2) — Page 155
155 ”ہمارے ساتھ مدرسہ کا بھی تعلق ہے اور اس کا انتظام خرچ بھی ناقص اور بالکل نا قابل اطمینان ہی ہے۔“ وو یادر ہے کہ مدرسہ کا قیام اور بقا بھی چونکہ بہت سے مصالح پر مبنی ہے۔لہذا از بس ضروری ہے کہ حسب استطاعت ہر شخص اس کے لئے بھی ایک ماہوار رقم اپنے اوپر لازم کر لے اور اس کی تجدید اور تعیین چندہ کی سب درخواستیں اخونیم مولوی عبد الکریم صاحب کے پاس آنی چاہیں۔چندہ کے متعلق مشکلات ۱۹ چندہ کے متعلق جو مشکلات تھیں وہ حضرت اقدس کے ذیل کے مکتوب سے ظاہر ہیں۔بسم الله مجی عزیزی اخویم نواب صاحب سلمہ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔اشتہار کے بارے میں جو مدرسہ کے متعلق لکھا ہے چند دفعہ میں نے ارادہ کیا کہ لکھوں اور ایک دفعہ یہ مانع اس میں آیا کہ دو حال سے خالی نہیں کہ یا تو یہ لکھا جائے کہ جس قدر مدد کا لنگر خانہ کی نسبت ارادہ کیا جاتا ہے۔اسی رقم میں سے مدرسہ کی نسبت ثلث یا نصف ہونا چاہئے۔تو اس میں یہ قباحت ہے کہ ممکن ہے کہ اس انتظام سے دونوں طرف خرابی پیدا ہو یعنی نہ تو مدرسہ کا کام پورا ہو اور نہ لنگر خانہ کا۔جیسا کہ دو روٹیاں دو آدمیوں کو دی نہ جائیں تو دونوں بھو کے رہیں گے اور اگر چندہ دینے والے صاحبوں پر یہ زور ڈالا جائے کہ وہ علاوہ اس چندہ کے مدرسہ کے لئے چندہ دیں تو ممکن ہے کہ ان کو ابتلا ء پیش آوے اور وہ اس تکلیف کو فوق الطاقت تکلیف سمجھیں۔اس لئے میں نے خیال کیا ہے کہ بہتر ہے کہ مارچ اور اپریل دو مہینے امتحان کیا جائے کہ اس تحریک کے بعد جو لنگر خانہ کے لئے کی گئی ہے۔کیا کچھ ان دو مہینوں میں آتا ہے۔پس اگر اس قدر روپیہ آ گیا کہ جو لنگر خانہ کے تخمینی خرچ سے بچت نکل آئے تو وہ روپیہ مدرسہ کے لئے ہو گا۔میرے نزدیک ان دو ماہ کے امتحان سے ہمیں تجربہ ہو جائے گا کہ جو کچھ انتظام کیا گیا ہے کس قدر اس سے کامیابی کی امید ہے اگر مثلاً ہزار روپیہ ماہوار چندہ کا بندوبست ہو گیا تو آٹھ سو روپیہ لنگر خانہ کے لئے نکال کر دوسور و پیہ ماہوار مدرسہ کے لئے نکل