اصحاب احمد (جلد 2) — Page 153
153 تیس کے قریب چندہ ہو گیا اس دن کے بعد آج تک مدرسہ کا چندہ ہر روز کچھ نہ کچھ آجاتا ہے۔یہ خدا کا فضل ہے اور بے شک خارق عادت امر “ انتظام مدرسه بعد از ہجرت ۱۶ دسمبر ۱۹۰۱ء میں حضرت نواب صاحب قادیان ہجرت کر آئے اور مدرسہ تعلیم الاسلام کی باگ ڈور مزید اختیارات کے ساتھ آپ کو سونپی گئی۔اب آپ نے مدرستہ الاسلام مالیر کوٹلہ کو بند کر کے اس کا سارا ساز و سامان قادیان منگوالیا اور مدرسہ تعلیم الاسلام کو دیدیا۔اب مالیر کوٹلہ کے مدرسہ کا بند ہونا لازمی امر تھا کیونکہ نواب صاحب کی مالی امداد اور ذاتی توجہ سے وہ برقرار تھا اور نہ آپ کو یہ کیونکر اختیار حاصل تھا کہ مدرسہ بند کر کے اس کا جملہ سامان قادیان لے آتے۔اب تو انجمن مصلح الاخوان کے رجسٹرات ضائع ہو چکے۔سیدہ نواب مبار کہ بیگم صاحبہ جنھوں نے دیکھے تھے فرماتی ہیں کہ آپ نے اس میں بہت روپیہ خرچ کیا اور بڑی حد تک کامیابی حاصل کی مگر آپ کے آجانے کی وجہ سے وہ انجمن چل نہ سکی۔سو قادیان آجانے پر مدرسہ تعلیم الاسلام کے لئے نئے قواعد تجویز ہوئے ان میں سے بعض درج ذیل ہیں۔ان سے ظاہر ہے کہ مدرسہ کے تعلق میں حضرت نواب صاحب کو پہلے سے بھی وسیع تر اختیارات سونپ دئے گئے تھے: مدرسہ کے مربی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہوں گے ( گواس کے ذکر کی ضرورت نہ تھی کیونکہ حضور اپنے مقام کے لحاظ سے جماعت کے ہر نیک کام کے مربی تھے ) اس مدرسہ کا انتظام حسب منشا و خواہش و تحریک حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خاں صاحب محمد علی خاں صاحب رئیس مالیر کو ٹلہ کریں گے جو ڈائرکٹر کہلائیں گے۔“ معاونین مدرسہ کی تین اقسام ہوں گی: ا ٹرسٹی جو وقتا فوقتا اپنی آراء سے ڈائرکٹر کو اطلاع دے سکتے ہیں اور ڈائرکٹر بھی ان سے رائے لے سکتے ہیں۔وہ ہوں گے جو ساٹھ یا اس سے زائد چندہ سالانہ دیں یا با جازت وصول کر کے ارسال کریں یا مدرسہ کے لئے کتا ہیں تالیف کر کے حق تالیف مدرسہ کو مفت عنایت کر دیں یا نصیحت و غیره وعظ وغیرہ ایسی خدمت مدرسه کی مفت کریں جس میں ملازم کی ضرورت ہو مثلاً مدرس۔علاج انجینئری وغیرہ یا صدر صاحبان مقامی انجمن ہائے وصولی چندہ مدرسہ۔۲- وزیٹر جنھیں مدرسہ کے دیکھنے کا اختیار ہوگا۔اور انتظام میں نقص کی اطلاع ڈائرکٹر کو دے سکتے تھے۔وہ