اصحاب احمد (جلد 2) — Page 152
152 ہے۔نیز کمیٹی نے بہت سے مسکین طالب علموں کا خرچ اپنے ذمہ لے رکھا ہے جس کے لئے بھی اسے اپنے بھائیوں کی امداد کی سخت ضرورت ہے۔غرض یہ زار نا لے قوم کی خدمت میں عرض کر کے التماس کیا جاتا ہے کہ ہر ایک بھائی اللہ تعالیٰ کے لئے۔اس کے مسیح کے لئے اور قوم کے لئے مدرسہ کی تائید کی فکر کرے اور مستقل فنڈ کے بہم پہنچانے کے لئے اپنی اپنی جگہ میں ایک عام تحریک کرے۔جو بھائی ٹرسٹی بننے کا مقدور رکھتا ہے وہ بلا تذبذب ٹرسٹی بنے اور جو یک مشت ایک کافی رقم بھی دے سکتا ہے وہ اس سے بھی دریغ نہ کرے۔غرض ہر ایک اپنی اپنی استعداد کے موافق جوانمردی دکھائے۔وباللہ التوفیق۔خادم قوم عاجز عبد الکریم سیالکوٹی“ ۱۱۵ اس درد انگیز اپیل کے بعد بھی مدرسہ کی جو مالی حالت تھی اس کا اس امر سے علم ہوتا ہے کہ اس کے دو ماہ بعد۷ ارنومبر کو معزز ایڈیٹر صاحب الحکم نے اپنے اخبار میں تحریر کیا کہ چالیس ٹرسٹی ہوں جو ماہوار پانچ روپیہ چندہ دیں تب مدرسہ کے اخراجات چل سکتے ہیں ہمیں مقرر ہو چکے بقیہ میں کی تعداد کیونکر پوری ہو اور اپنی طرف سے یہ تجویز پیش کی کہ ٹرسٹی چونکہ بارسوخ ہیں اس لئے ان میں سے ہر ایک مدرسہ کے لئے ایک ایک ہمدرد مہیا کرے جو دورو پیہ ماہوار کی اعانت کرے، اگر ایسے پچاس معاون مہیا ہوجا ئیں تو بقیہ رقم مہیا ہو سکے گی۔جنوری کو سیکرٹری مجلس منتظمہ مدرسہ کی طرف سے الحکم بابت ۰۱-۱-۱۰ میں ان احباب کا شکر یہ ادا کیا گیا جنھوں نے عالی حوصلگی سے محصل کو خیر مقدم کہا ، ان میں سے دو نے ۲۵ روپے۔ایک خاتون نے ہمیں عدد نقر کی چوڑیاں دیں۔یہ سب سے زیادہ چندہ تھا۔اس میں بھی مذکور ہے کہ اسی ماہ میں حضرت نواب صاحب پانصد روپیہ بھیج چکے تھے پھر بھی آپ نے محصل کو پچاس روپے مزید چندہ دیا۔یہ مدرسہ کا اس وقت حال ہے جب کہ ایک ہزار روپیہ سالانہ کی امداد حضرت نواب صاحب کی طرف سے پیش ہو چکی تھی۔ان حالات کا مزید علم حضرت نواب صاحب کی ۱۶ نومبر کی ۱۹۰۱ء ڈائری سے بھی ہوتا ہے جس میں ذکر کرتے ہیں کہ حضرت اقدس نے سیر میں مدرسہ کے لئے چندہ فراہم کرنے کے متعلق تقریر کی بلکہ یہاں تک فرمایا کہ جو ایسے چندے سے احتراز کرتے ہیں وہ گویا ہمارے مرید نہیں۔اس وقت کی کیفیت کا علم معزز الحکم کے ذیل کے نوٹ سے بھی ہوتا ہے جو مذکورہ سیر کے متعلق ہے۔تحریر فرماتے ہیں :۔حضرت اقدس نے گذشتہ ہفتہ میں مدرسہ اور دیگر ضروریات سلسلہ عالیہ کے متعلق سیر کے وقت لطیف اور مؤثر تقریر فرمائی تھی اور اس امر پر زور دیا تھا کہ ہر ایسے آدمی پر جو سلسلہ بیعت میں داخل ہے فرض ہے کہ وہ چندہ میں شریک ہو۔ڈاکٹر خلیفہ رشیدالدین صاحب نے واپس آکر دار الامان میں چندہ کرنا چاہا۔تھوڑی ہی دیر میں