اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 112 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 112

112 میں نے مدرسہ کے متعلق بہت فکر کی ہے۔میری رائے میں اس کی الجھنوں کا سلجھانا ایسا دشوار ہے کہ ایک لحاظ سے محال کے قریب قریب جا پڑتا ہے معا اس یقین سے لبریز ہوں کہ اللہ تعالیٰ پر اسکا آسان کرنا آسان ہے۔نیت کے تمام گوشوں کو خوب مطالعہ کر کے کامل اخلاص اور خدا ترسی کو مد نظر رکھ کر دلیری سے آپ ایک بات فیصلہ کر دیں۔پھر دیکھ لیں کوئی بھی حرج و ہر ج پیدا نہ ہوگا۔میں سالہا سال کے تجربہ سے اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ شجاعت سے ایک امر طے کرنے والا آخر اپنی راہ صاف اور ہموار دیکھ لیتا ہے بہر حال آپ کا یہاں آنا از بس ضروری ہے خواہ تنگی کے ساتھ گذران کر لیں۔آپ کی ذات کے لئے بھی مفید ہے اور دیگر مصالح کے لئے بھی۔آپ نے چند روز بعد دوسری شادی کر لی آپ کی یہ رفیقہ حیات آپ کے ہمراہ ہجرت کر آنے پر رضامند تھیں۔میر عنایت علی صاحب لدھیانوی رضی اللہ عنہ نے سنایا کہ ۱۹۰۰ء میں نواب صاحب ہجرت کرنے کے لئے تیار تھے کہ نواب لوہارو نے جو ان ایام میں ریاست مالیر کوٹلہ کے سپرنٹنڈنٹ لگے ہوئے تھے آپ کو کہا کہ ریلوے لائن کی تعمیر کا ٹھیکہ آپ لیں۔میر صاحب نے خواب دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے پوچھا کہ نواب صاحب کیوں نہیں آئے۔میر صاحب نے ٹھیکہ کی وجہ بتائی تو فرمایا خیر یہ دھوکہ کی ٹی ہے۔چنانچہ میر صاحب قادیان آئے تو حضور نے یہی سوال کیا اور میر صاحب کے ٹھیکہ کی وجہ بتانے پر خاموش رہے دوسرے ٹھیکیدار تو افسران کی منت خوشامد کر کے رشوت دے کر مال پاس کرا لیتے ہیں نواب صاحب فطرتا اس امر سے متنفر تھے۔نتیجہ یہ ہوا کہ آپ کا اول درجہ کا مال دوم اور سوم درجہ میں پاس کیا گیا چنانچہ اس ٹھیکہ میں نقصان عظیم برداشت کرنا پڑا۔(ع) ہجرت حضرت نواب صاحب کے بلند روحانی مقام کا کون اندازہ کرے جس نے ایک رئیس کے گھر میں پیدا ہو کر تھیں اکتیس برس کی عمر میں جب رئیس زادوں کو لہو ولعب کے سوا اور کوئی کام نہیں ہوتا دنیا اور اس کی لذات یہ غیر مطبوعہ مکتوب بتمامہ مدرسہ کے تعلق میں نقل کیا گیا ہے۔گذشتہ صفحات میں حاشیہ میں مندرجہ مرزا خدا بخش صاحب کے خط میں بھی ۱۹۰۰ء میں حضرت نواب صاحب کے ٹھیکہ لینے کا ذکر آتا ہے۔